بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہاہے 27 مارچ 1948سے آج تک ہزاروں بلوچ بچے مختلف صورتوں میں پاکستانی فوج، خفیہ اداروں اور ریاستی قائم کردہ ڈیتھ سکواڈز کے ہاتھوں قتل، زخمی اور تشدد کا شکار ہو چکے ہیں۔ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال خطے میں لاکھوں بچے پاکستانی استحصال سے بھوک، فاقہ کشی اور غذائی قلت سے موت کا شکار ہورہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں بلوچستان کے اکثر علاقے قرون وسطیٰ کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ پاکستان کی غلامی اور بھیانک استحصال ہے۔
انہوں نے کہا موجودہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے پاکستان نے ریاستی افواج کے ساتھ ساتھ سینکڑوں ڈیتھ سکواڈز کے جھتے منظم کئے ہیں۔ ریاستی افواج اور خفیہ ادارے بلوچوں کی قتل عام کررہے ہیں۔ لوگوں کے گھروں کو نذر آتش اور مال و متاع لوٹے جا رہے ہیں۔ ہزاروں غیر قانونی زندانوں میں قید ہیں۔اسی طرح فوج اور ریاستی آلہ کاروں کے ظلم و ستم سے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں اور مختلف صورتوں میں معصوم بچے ریاستی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جس کی تازہ مثال ڈنک واقعہ ہے۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ مزاحمت بلوچ کے خمیر اور اقدار میں شامل ہے۔ بلوچ مزاحمت کو کچلنے کے لئے اور بلوچ کو تابع بنانے کے لئے رابرٹ سنڈیمن نے بلوچستان میں جس تابع فرمان اور قابض کے وفادار سرداری نظام کی بنیاد رکھی تو بتدریج انگریز بلوچستان میں سوائے چند مستثنات کے مزاحمت کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس بوسیدہ نظام نے پاکستان کے قبضہ گیریت کو قائم و دائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کی ہے۔ آج ہمیں ڈیتھ سکواڈ ز کی جس عفریت کا سامنا ہے،اس میں نام نہادسرداروں کا کافی عمل دخل ہے۔ جہاں جہاں یہ بوسیدہ نظام اپنی موت آپ مرچکاہے وہاں ریاست پاکستان نے پیشہ مجرم، قاتل، رہزن اور بڑے بڑے منشیات فروش اور مذہبی جنونیت کے ملغوبے سے ڈیتھ سکواڈز تشکیل دیئے ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں فوج کے تابع فرمان نام نہاد صوبائی حکومت تو موجود ہے لیکن طاقت کا اصل مرکز اور اختیار فوج کے پاس ہے اور درحقیقت بلوچستان میں باوردی اور بغیر وردی قاتلوں کا راج ہے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ پارلیمانی پارٹیاں فوجی مقاصد کے تکمیل کے عوض پارلیمان میں حصہ داری پاتے ہیں۔ اس وقت یہ پارٹیاں بلوچ قوم کے بھڑکتے جذبوں کو ٹھنڈا کرنے اور پاکستان کے زندانوں میں قید نوجوانوں کے مجبور والدین کے ارمانوں سے کھیلنے میں مصروف ہیں۔ چیئرمین غلام محمد کے شہادت کے خلاف بلوچ قوم کے جذبات سے یہی کھیل کھیلا گیا اور ڈیتھ سکواڈ کے خاتمے پارلیمانی پارٹیاں بلوچ قومی موقف اور قومی آواز کو بے اثر کرنے لئے جس جعلی بیانئے کی تشہیر میں مصروف ہیں دراصل ان قاتل جتھوں کی تشکیل میں اپنی جرم چھپانے اور اس موقعہ کو اپنی گناہ دھونے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ ڈیتھ سکواڈ کا مکروہ چہرہ شفیق مینگل گزشتہ نام نہاد انتخابات میں کس کس کا اتحادی تھا، یہ بات صرف شفیق تک محدود نہیں۔ جہاں جہاں قاتلوں کے بندوقوں پر پاکستانی پرچم نقش ہے، پارلیمانی گروہوں کے راج دلارے ہیں۔ بلوچ قوم کو بخوبی معلوم ہے، کہ ان سب کے ہاتھ بلوچ کے خون سے رنگین ہیں۔ اس بات پر کوئی شک نہیں کہ ڈیتھ سکواڈز فوج تشکیل دیتا ہے لیکن ان کے تانے بانے ان پارلیمانی پارٹیوں سے بھی جاملتے ہیں۔ سانحہ ڈنک نے نہ صرف ریاستی افواج کے مظالم سے نقاب اتارا ہے بلکہ پارلیمانی گروہوں کے بدنما چہرے عیاں کئے ہیں۔ پاکستان جانتا ہے کہ اپنی قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے کے لئے پارلیمانی پارٹیاں اور ڈیتھ سکواڈز کو پالنا لازم وملزوم ہیں۔ اس لئے ہمیں بلوچستان کے ہرکونے میں ان کا گٹھ جوڑ نظر آتاہے۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا فوج کی سرپرستی میں گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے ڈیتھ سکواڈز نے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا ہے۔ قتل، چوری و ڈکیتی اور لوٹ مار روز کا معمول بن چکا ہے۔ اب تک سینکڑوں لوگ ان کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔ 26مئی رات کیچ میں جاسم بلوچ کے گھر میں ریاستی آلہ کار اور ڈیتھ سکواڈز نے ڈکیتی کے لئے حملہ کیا اور مزاحمت پر بی بی ملک ناز کو شہید کی ،اور فائرنگ کی زد میں آکرچار سالہ معصوم بچی برمش کو شدید زخمی ہوئے۔ سانحہ ڈنک اپنی نوعیت میں ایک ایسی واقعہ ہے جس نے بلوچ سماج اوربلوچ سیاست ومزاحمت پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس واقعے کے اثرات آج ہم بلوچستان کے طول و عرض میں بخوبی مشاہدہ کررہے ہیں۔ سانحہ ڈنک پر بلوچ قوم، بلوچ سول سوسائٹی نے تاریخ ساز جدوجہد کا آغاز کیاہے جو بلوچستان کے ساتھ ساتھ بندوبست پاکستان میں شامل دیگر بلوچ علاقوں احتجاجی مظاہرے شدت کے ساتھ جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے خلاف بربریت بہتر سالوں سے جاری ہیں لیکن ہماری تاریخ میں چند واقعہ ایسے ہیں جن کے اثرات ہمہ گیر اور دیرپا ہیں۔ نہ صرف بلوچ بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسے ہی واقعات نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا ہے۔ بی این ایم سمجھتاہے کہ ڈنک واقعہ ایسے اثرات کا حامل ہے کہ جس نے پاکستانی ریاست، ریاستی افواج، خفیہ اداروں اور پارلیمانی پارٹیوں کے گٹھ جوڑ سے منظم کردہ ڈیتھ سکواڈز کے چہروں سے نقاب اتار پھینکا ہے،پاکستان نے فوج،خفیہ اداروں اور ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے بلوچ قوم کے سیاست اور اپنی قومی حقوق کے لئے آواز اٹھانا شجر ممنوعہ بنادیاہے لیکن اس سانحے نے بلوچ قوم کو حوصلہ بخشا کہ ظلم کے خلاف آوازاٹھانے ہی میں نجات ہے لہٰذا اپنی نوعیت کے سبب سانحہ ڈنک نے بلوچ سیاست، مزاحمت اور نفسیات پر دور رس اور گہرے نقوش مرتب کئے ہیں۔
انہوں نے کہا سانحہ ڈنک ہماری موجودہ تحریک کا ایک ایسا موڑ ہے جس نے بلوچ سیاست اور مزاحمت میں نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ دن ہماری جدید تاریخ میں کئی حوالوں سے بڑی معنویت کا حامل ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر بی این ایم نے فیصلہ کیاہے کہ 26 مئی کے دن کو برمش کے نام سے منسوب کیاجائے۔ اس دن کو برمش کے نام سے منسوب کرنے کا بنیادی مقصد شہید ملک ناز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے علاوہ پاکستانی افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ بچوں پر روا رکھی جانے والے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔ مہذب دنیا میں جنگی صورت حال میں خواتین، بزرگ، بچے اور نہتے لوگ مستثنیٰ ہیں چونکہ پاکستان ایک غیر فطری ملک ہے، یہ ریاست کسی تاریخ اور تہذیب کی پیداوار نہیں، لہٰذا قوموں کے اقدار و عالمی قوانین پاکستان کے لئے بے معنی ہیں۔ ہمیں خود بحیثیت قوم اپنے قومی اور مزاحمتی علامتوں کو زندہ رکھنا ہے۔
آخر میں بی این ایم چیئرمین نے کہا کہ بی بی ملک نازکی شہادت اور معصوم بچی کے زخموں نے بلوچ قوم کے جذبوں کو شاشان جیسی بلندی،بولان جیسی سختی اور بحربلوچ جیسی گہرائی عطا کی ہے۔ بلوچ قوم نے جس بہادری کے ساتھ دشمن کے خوف کو بے اثر کرکے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا ہے ہمیں امید ہے کہ پاکستانی بربریت سے نجات اور منزل کے حصول تک اسی جوش وجذبے اور جوان حوصلوں کے ساتھ فلسفہ قربانی برقرار رہے گا۔