بلوچستان کے ساحلی شہر وسی پیک مرکز گوادر میں گذشتہ روزبلوچ راجی مچی کے دھرنے کے پانچویں روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 28 جولائی کو ریاست نے بلوچ راجی مچی کو روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لوگوں کو شہید کیا، زخمی کیا، گرفتار کیا، لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس پھینکی، پورے بلوچستان کی شاہراہوں کو بند کیا، نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کو بند کیا، لیکن اس کے باوجود ہزاروں لوگ راجی مچی میں آئے اور آج پانچویں روز بھی یہ لوگ اس دھرنے میں موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ریاست کو بلوچوں کے مزاج اور روایات کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں ہے، بلوچ میں طاقتور کے سامنے سر جھکانے کی روایت نہیں ہے۔ اس ریاست نے 28 جولائی کو صرف مشرقی بلوچستان کے بلوچوں کو متحد ہونے سے روکنے کی کوشش کی، لیکن بلوچ راجی مچی کی آواز آج مغربی بلوچستان میں بھی گونج رہی ہے۔ مغربی بلوچستان کے بلوچ بھی آج بلوچ راجی مچی کی اس جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہی بلوچ راجی مچی کی کامیابی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ میں آج یہاں ایک اہم نکتہ سب کے سامنے واضح کرتی ہوں کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ بلوچ راجی مچی میں شہید ہونے والے بلوچ فرزندوں کے خون کا معاوضہ لیا جائے، ہم انہیں دوٹوک الفاظ میں کہتے ہیں کہ ہمارے شہیدوں کے خون اتنے سستے نہیں ہیں کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کا معاوضہ لیں اور نہ ہی ہم معاوضہ لے کر بلوچ قومی شہیدوں کی توہین کریں گے۔ ہمارے قومی شہیدوں کا معاوضہ یہ مزاحمتی جدوجہد اور ہماری قومی منزل ہے۔ ہم نہ بلوچ راجی مچی میں شہید ہونے والے اپنے فرزندوں کے خون کا معاوضہ لیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دیں گے۔ ہمارے قومی شہیدوں کے خون کا بدلہ پانچ دس لاکھ روپے نہیں بلکہ جہد مسلسل، مزاحمتی جدوجہد، قومی یکجہتی اور قومی منزل ہے۔
جبکہ اس کے علاوہ بلوچ راجی مچی کے کاروان میں زخمی ہونے والے دوستوں کے علاج کے لیے بھی ہم اس ریاست سے معاوضہ طلب نہیں کریں گے بلکہ اس کے برعکس ہم خود اپنی مدد آپ کے تحت تمام زخمی دوستوں کا علاج کریں گے۔ اگر اس کے لیے ہمیں گھر گھر چندہ کرنا پڑے تو ہم کریں گے لیکن اس ریاست سے کسی بھی صورت معاوضہ نہیں لیں گے اور ثابت کریں گے کہ بلوچ ایک زندہ اور بہادر قوم ہے۔
بی وائی سی سی سربراہ نے کہا کہ دھرنا مظاہرین وبلوچ قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں، یہ جدوجہد ایک صبر آزما اور طویل جدوجہد ہے، جس کے لیے جہد مسلسل کی ضرورت ہے اور اس میں جیت مضبوط حوصلوں اور قربانی سے سرشار جذبوں کی ہوگی۔ ہمیں یقین ہے کہ ہر قدم پر اس ریاست کا مقابلہ کریں گے اور اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے اور جیت ہماری ہوگی۔