بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے سابق مرکزی وائس چئیرمین ذاکر مجید کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا ذاکر مجید بلوچ پچھلے گیارہ سالوں سے لاپتہ ہے جس کی بازیابی کے لئے ہم نے تمام اداروں کے سامنے اپنی فریادیں پیش کیں، لیکن ہمیں کہیں بھی انصاف نہ ملا، ہم نے وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے ساتھ مل کر ذاکر مجید کی بازیابی کے لئے پرامن احتجاج کا راستہ اپنایا لیکن آج گیارہ برس کا طویل عرصہ گزرچکا ہے ذاکر جان کے حوالے ہمیں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے،بلوچستان میں ہزاروں دردمند مائیں ہیں جن کے لخت جگر جبری طور پہ گمشدہ کئے گئے ہیں،کئی بچیاں ہیں جو اپنے والد کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج ہے لیکن انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جارہا۔
انہوں نے کہا ایک ماں کے لئے بیٹے کی جدائی میں گیارہ سال کا عرصہ برداشت کرنا بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔بلوچستان کی مائیں اسی درد کو لیکر جیتی ہیں اور اس درد کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں۔میں بھی ان ہزاروں دردمند ماؤں میں سے ایک ہوں جس کے لخت جگر کو گیارہ سال کا طویل عرصہ مکمل ہوچکا ہے۔
ذاکر مجید کی والدہ نے تمام انسان دوستوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ جون بروز پیر ذاکر جان اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔آپ اس مظاہرے میں شرکت کرکے بلوچ مِسنگ پرسنز سے اظہار یکجتی اور مِسنگ پرسنز کیس کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ذاکر مجید کی والدہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں ناساز طبیعت کی وجہ سے احتجاجی پروگرام میں شرکت کرنے سے قاصر رہوں گی لیکن مجھے امید ہے کہ بلوچستان کے نوجوان بچے، بچیاں، بزرگ، مائیں ذاکر جان کو فراموش نہیں کریں گی اور انکی بازیابی کے لئے ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور شرکت کرکے ایک لاچار ماں کی آواز بنیں گی