بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکز گوادر میں بلوچ راجی مچی کے پر امن و نہتے دھرنا مظاہرین پر ریاستی فورسز کا حملہ ، شیلنگ ، فائرنگ و گرفتاریوں کے باوجود مظاہرین دوبارہ جمع ہوگئے اور دھرنا جاری ہے ۔
حالات ہنوز کشیدہ ہیں اور نظام زندگی درہم برہم ہے ۔
مظاہرین گذشتہ شب دو بارہ پدی زر میں جمع ہونا شروع ہوچکے ہیں اور اب بھی لوگ آہستہ آہستہ آرہے ہیں دھرنے کا حصہ بن رہے ہیں۔
گذشتہ روزفورسز نے دھرنے کے شرکا پر شیلنگ، فائرنگ کے بعد لوگوں پر بکتر بند گاڑیاں چڑھا دیں جس سے متعدد خواتین و بچے بھی زخمی ہوگئے۔
فورسز کے حملے میں بی وائی سی کےقائد سمی دین ،شاہ جی و ڈاکٹرصبیحہ بھی زخمی ہوگئے جنہیں دیگر رہنمائوں سمیت متعدد کارکان کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے ۔
جبکہ دھرنا گاہ میں بطور اسٹیج استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی نذر آتش کیا گیا اور بعدازاں بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ضیا لانگو نے مظاہرین کو شر پسند عناصر قرار دیکردعویٰ کیاکہ مظاہرین پر کارروائی کرکے منتشر کردیا گیا ، 20 افراد کوگرفتار کیا گیا ہے ۔اب حالات معمول پر آگئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ 28 جولائی سےبلوچ راجی مچی کے شرکاء کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن جاری ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گوادر میں پرامن مظاہرین پر فورسز کے حملے میں دس سے زائد شرکاء شدید زخمی ہو گئے۔
فورسز اندھا دھند رہائشی علاقوں میں گھس رہی ہیں جہاں شرکاء ٹھہرے ہوئے تھے، جس سے گھرانوں کو کافی نقصان پہنچا۔اب وہ پرامن شرکاء بشمول بوڑھے مردوں، عورتوں اور بچوں کو خوفزدہ کرنے اور ہراساں کرنے کے لیے گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں۔
ہزاروں شرکاء کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ہم عدلیہ اور عالمی برادری سے مزید خونریزی اور جانی نقصان کو روکنے کے لیے مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔