بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچ راجی مچی کے شرکاء کو روکنے شہروں میں سڑکوں کو بند کرنے سمیت شرکاء کو گوادر میں داخلے سے روکنے پر پیغام جاری کرتے ہوئے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔
ماہ رنگ بلوچ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت ریاستی فورسز نے پورے گوادر شہر کو سیل کردیا ہے اور لوگوں کو گرفتار اور اغواء کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کاروان کو پورے بلوچستان میں ہر جگہ روکا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی پوری طاقت اور پوری مشینری بلوچ راجی مُچی کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ریاست پرامن اور نہتے عوام پر طاقت کا استعمال کرکے بلوچ عوام کے سامنے اپنی بدترین شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔
انہوںنے کہا کہ میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ جہاں جہاں بلوچ راجی مُچی کے کاروان کو روکا جا رہا ہے، وہاں پر امن طریقے سے دھرنا دے کر پورے بلوچستان کو بند کریں۔ ہم اس بربریت کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے پورے بلوچستان کو بند کریں گے۔
ڈآکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ آج مستونگ میں قافلے پر حملہ، متعدد بلوچ نوجوانوں کو زخمی کرنا، اور دیگر علاقوں میں گرفتاریاں اور تشدد کے تمام واقعات کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور ہم ریاست کے ان تمام واقعات کا حساب لیں گے۔
انہوںنے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر بلوچستان میں ریاستی بربریت کا نوٹس لیں۔
ماہ رنگ بلوچ نے مزید کہا ہے کہ تلار چیک پوسٹ کے قریب پاکستانی فورسز نے بلوچ راجی مچی کے شرکاء کو روکے رکنے کے بعد انھیں تشدد کا نشانہ بنارہا ہے جبکہ مختلف شہروں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے جلسے کے شرکاء کو روکا جارہا ہے اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ نے حکومت اور انتظامیہ پر اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ اگر ہمیں پرامن جلسہ کرنے نہیں دیا گیا تو ہمارا یہ جلسہ دھرنے میں تبدیل ہوگا اور ان تمام تر کی ذمہ داری صوبائی حکومت ہر عائد ہوگی-