بلوچستان کے ساحلی شہر وسی پیک مرکزگوادرمیں 28 جولائی کو بی وائی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی بلوچ راجی مچی ( بلوچ قومی اجتماع ) کو روکنے کیلئے ریاست کے اوچھے ہتھکنڈے جاری ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ آواران پولیس اور ایم آئی کے کارندوں نے راجی مچی کیلئے چندہ جمع کرنے کی پاداش میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی 13 خواتین کو گرفتار کرکے حولات میں بند کردیا ہے۔
اس بات کی تصدیق ضلع آواران سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ بلوچ راجی مُچی کے لیے چندہ جمع کرتے ہوئے ہماری 13 خواتین اراکین کو آواران بازار سے پولیس اور ایم آئی نے حراست میں لینے کے بعد تھانے منتقل کر دیا ہے۔
بیان میں بلوچ عوام سے التجا کی گئی ہے کہ وہ فوی طور پر پولیس تھانے آواران پہنچ جائیں۔
واضع رہے کہ ریاست کی جانب سے بلوچ راجی مچی کیلئے چندہ جمع کرنے پر پابندی سمیت ، باورچیوں کو کھانا بنانے ، ٹرانسپورٹرزکو گاڑیاں نہ دینے اور بلوچستان بھر کے عوام کو مختلف ذرائع سے سختی سے پیغام دیا جارہا ہے کہ وہ اس اجتماع میں شرکت نہ کریں کیونکہ وہاں کچھ بھی ہوسکتاہے ۔