بلوچستان کے علاقے خاران اورتربت سے پاکستانی فورسز وخفیہ اداروں نے 5افراد کو حراست میں لیکر جبری طور لاپتہ کردیا ہے ۔
خاران سے لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت حفیظ اللہ ولد فضل محمد چنال، منظور احمد ولد عباس یلانزئی، ضیاء اللہ ولد فضل محمد چنال اور مختیار احمد مینگل ولد حاجی عبدالحمید مینگل کے نام سے ہوئی ہے۔ جبکہ تربت سے لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت سراج ولد شفیع محمد کے نام سے ہوگئی ہے ۔
خاران کے محلہ کبدانی میں فورسز اور خفیہ اداروں نے سرچ آپریشن کے نام پر گزشتہ روز 3 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پرلاپتہ کردیا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں 12 بجے کے قریب سرچ آپریشن کے نام پر فورسز نے حفیظ اللہ، منظور احمد اور ضیا اللہ نامی 3 افراد کو لاپتہ کردیا ہے۔ تاہم منظور احمد اور ضیا اللہ کو بعد ازاں رہا کردیا گیا ہے جبکہ حفیظ اللہ تاحال لاپتہ ہے۔
ذرائع کے مطابق تینوں افراد کا بنیادی تعلق خاران کے علاقہ زرد گواش سے ہے جبکہ ان کی رہائش خاران شہر میں موجود کبدانی محلہ نزد ٹینکی میں ہے۔
اسی طرح خاران کے دیہی علاقے سراوان کے رہائشی مختیار احمد مینگل ولد حاجی عبدالحمید مینگل کو ایجنسیز اور ان کے کارندوں نے گزشتہ روزحراست میں لیکر جبراً لاپتہ کردیا ہے ۔
علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ مختیار احمد مینگل گزشتہ روز 15 جولائی کو صبح 8 بجے کے وقت گھر سے خاران شہر کی طرف جاتے ہوئے راستے سے حراست میں لیکر لاپتہ کیا گیا ہے۔
اہل علاقہ کی جانب سے یہی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مختیار احمد مینگل کو اغواء برائے تاوان کیلئے اغوا کیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک زمیندار اور تاجر ہے۔
علاہ ازیں تربت سے بھی ایک نوجوان کی جبری گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔
نوجوان کی شناخت سراج ولد شفیع محمد نام سے ہوگئی ہے۔
علاقائی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سراج کو گذشتہ روز 14 جولائی کو پاکستانی فوج کےحمایتی ڈیتھ اسکواڈز نے لاپتہ کردیا ہے۔
یاد رہے کہ فوج مذکورہ مسلح جتھے کو سیاسی و سماجی کارکان کی جبری گمشدگی ، ٹارگٹ کلنگ ودیگر جرائم کیلئے بطور پروجیکٹ استعمال کرتا ہے۔