بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ جہاں نہتے لاپتہ افراد مظاہرین پر فورسز گردی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جہاں اطلاعات ہیں کہ پولیس نے بی وائی سی کے رکن بیبگر بلوچ اور فیضان سمیت زخمی وبے ہوشی کی حالت میں گلزار دوست کو بھی گرفتار کرلیا گیاہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے پولیس اور انتظامیہ کا ایک غیر انسانی اور غیر قانونی عمل، اس وقت ہمارے ساتھی بیبرگ بلوچ اور فیضان بلوچ کو پولیس نے عدالت سے گرفتار کیا ہے اور سول لائن تھانہ لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ بیبرگ بلوچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکن ہیں اور ظہیر بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے لیے ایک باہمت آواز ہیں۔
اس سلسلے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ کوئٹہ میں بلوچ مظاہرین پر حملے اور تشدد کے بعد درجنوں مظاہرین کو گرفتار گیا گیا۔ 6 بلوچ خواتین کو بارہ گھنٹے کے بعد جمعہ کی صبح چھ بجے رہا گیا گیا اورگلزار دوست جو حملے کے دوران زخمی اور بے ہوش تھے سمیت دیگر چالیس کے قریب مرد حضرات تاحال مختلف پولیس تھانوں میں قید ہیں اور جمعہ کی صبح وہیل چیئر پربیٹھے بیبگر بلوچ اور فیضان بلوچ کو بھی کوئٹہ پولیس نے حراست میں لیا گیاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت چند مہینے قبل اسی طرح اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین پر تشدد کے بعد بلوچ عوام کی جانب سے غم و غصہ اور عوامی طاقت و مزاحمت کا سامنا کرچکی ہے لیکن وہی رویہ دوبارہ روا رکھا جارہا ہے، بلوچستان حکومت ہوش کے ناخن لے اور تمام مظاہرین کو جلد از جلد بازیاب کرکے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد کرے۔
خیال رہے گذشتہ روز لاپتہ ظہیر احمد کیلئے نکالی گئی ریلی کو دو مقامات پر پولیس کی جانب سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج سمیت آنسو گیس شیلنگ کی جس کے بعض کئی مظاہرین زخمی ہوگئے۔