افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت میں اضافہ ہوا، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

اقوام متحدہ نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے یہ رپورٹ بدھ کے روز جاری کی گئی۔

ٹی ٹی پی کی حالیہ ہفتوں میں کارروائیوں کی وجہ سے سینکڑوں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں لکھا گیا کہ، ’’ٹی ٹی پی افغانستان میں بڑے پیمانے پر آپریٹ کرتی ہے اور وہاں سے پاکستان میں حملے کیے جا رہے ہیں جن میں اکثر افغان شہری بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔‘‘

رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا کہ بین الاقوامی طور پر دہشت گرد قرار دیے گئے اس گروپ کے افغانستان میں 6 سے ساڑھے چھ ہزار جنگجو موجود ہیں۔

اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خطرے کو ختم کرنے میں یا تو ناکامی نظر آتی ہے، یا ایسا کرنے میں کوئی ارادہ ظاہر نہیں ہوتا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت میں اضافہ نظر آتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر پڑا ہے اور افغان طالبان دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کا انکار کرتے ہیں ساتھ ہی ان الزامات کی بھی تردید کرتے ہیں کہ ان کارروائیوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ تسلیم نہیں کرتے، اور ان کے تعلقات قریبی ہیں اور افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی امداد کا قرض ہے۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ القاعدہ کے ارکان جن کے افغان طالبان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، وہ ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے مدد فراہم کر رہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے اس رپورٹ پر ابھی تک ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا لیکن وہ ماضی میں ایسی رپورٹوں کو مسترد کر چکے ہیں اور انہیں طالبان حکومت کو بدنام کرنے کی سازش اور پراپیگنڈے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں رکن ممالک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے کارندوں کو مقامی جنگجوؤں کے ساتھ القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے جو دہشت گرد تنظیم نے متعدد سرحدی صوبوں جیسے ننگرہار، قندھار، کنڑ اور نورستان میں قائم کیے ہیں۔ القاعدہ کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت میں افغان جنگجوؤں کو فوجی عملے یا حملے کی تشکیل کے لیے حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی رکن ریاستوں کی جانب سے دوبارہ کہا گیا ہے کہ نیٹو کے معیار کے ہتھیار، جن میں رات کو دیکھنے کی صلاحیت بھی شامل ہے طالبان کی حکومت آنے کے بعد ٹی ٹی پی کو فراہم کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے پاکستان کی سرحدی فوجی پوسٹس پر حملے زیادہ کامیاب ہوتے جا رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کے خدشات کا ذکر کیا گیا کہ القاعدہ کی جانب سے ٹی ٹی پی کے لیے بڑھتی حمایت سے ٹی ٹی پی خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment