کٹھ پتلی حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین پر دوران احتجاج ریاستی بربریت پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ریڈ زون میں ریاستی اداروں کو یرغمال بنانے کی کسی کواجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے، یہ احتجاج گزشتہ 10 سے 12 روز کے دوران کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر جاری تھا ۔ اس دوران ریاست کی جانب سے اس پرامن احتجاج پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔
ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ آج مظاہرین نے سریاب روڈ کوئٹہ سے ریڈ زون کی طرف پیش قدمی کی ۔ ریڈ زون کوئٹہ میں ہائی کورٹ، سپریم کورٹ رجسٹری، گورنر ہاؤس ، وزیراعلیٰ ہاؤس ، ججز اور اعلیٰ سول حکام کی رہائش گاہوں سمیت سول سیکرٹیریٹ بلوچستان کی عمارت بھی موجود ہے ۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے لیکن اس کے باوجود بھی مظاہرین نے ریڈ زون میں گھسنے کی کوشش کی ۔
شاہد رند کا کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل اور برداشت کا رویہ اختیار کیا ۔ریڈ زون کے حوالے سے پالیسی واضح ہے کہ ریڈ زون میں کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ۔
ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص یہ گروہ کسی بھی علاقے میں پرامن احتجاج کرنا چاہتا ہے تو ریاست کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔ ریڈ زون اور ریاستی اداروں کو یرغمال بنانے کی کسی کو بھی کوئی اجازت نہیں دی جائے گی ۔