افغان طالبان نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ کو رد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے باوجود طالبان کے اب بھی القاعدہ کے ساتھ رابطے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سنہ 2019 اور 2020 کے اوائل تک طالبان کے القاعدہ کے ساتھ نہ صرف رابطے تھے بلکہ ان کا نیٹ ورک طالبان کی مدد سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں مزید مضبوط ہو رہا تھا۔
یہ رپورٹ سکیورٹی کونسل کے مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے 27 مئی کو جاری کی گئی ہے تاہم پیر کی شب یہ رپورٹ منظرعام پر آئی تھی۔ افغان طالبان نے منگل کو اس رپورٹ کے ردعمل میں کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کردہ بیان میں سکیورٹی کونسل کی اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر من و عن عمل درآمد کر رہے ہیں۔
ترجمان نے سکیورٹی کونسل کے رپورٹ میں طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد دھڑے بندی کو بھی رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تمام جنگجو اپنی لیڈرشپ کے ہر حکم کے پابند ہیں۔
رواں سال فروری میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ القاعدہ سمیت کوئی بھی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کرے گی اور طالبان القاعدہ سمیت کسی بھی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کے ساتھ رابطے نہیں رکھیں گے۔