طالبان اور القاعدہ مابین رابطے برقرار ہیں، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اب بھی القاعدہ سے رابطے میں ہیں۔

اقوام متحدہ نے افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جو اس کی بین الاقوامی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے تیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اب بھی القاعدہ سے رابطے ہیں جو امریکہ پر نائن الیون حملوں کی ذمہ دار ہے اور طالبان نے ان سے تعلق توڑنے کی بجائے اسے مضبوط بنایا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی اندرونی پیغام رسانی سے پتا چلتا ہے کہ وہ سخت گیر رویہ قائم رکھنے کی تلقین کرتے ہیں اور طالبان کو اعتماد ہے کہ وہ طاقت کے بل پر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات کو کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں اس وقت تک التوا میں ڈالے رہیں گے جب تک بین الاقوامی افواج کا افغانستان سے انخلا نہیں ہو جاتا۔

لیکن، اعلیٰ امریکی عہدیدار توقع کرتے ہیں کہ طالبان اپنے معاہدے پر قائم رہیں گے اور بین الافغان مذاکرات کی جانب مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔

افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے واشنگٹن میں ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور تشدد میں کمی کے معاملے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک نگراں گروپ ہے جو اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے طالبان اپنے وعدوں پر کس طرح عمل کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بارے میں ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ رپورٹ میں پندرہ مارچ تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ فروری کے آخر میں ہوا ہے۔ وعدوں کو پورا کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ اور انہوں نے کہا کہ معاہدے سے امریکہ کی وابستگی طالبان کی جانب سے معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل درآمد سے ہے۔

ایک اور افغان صحافی اور تجزیہ کار میر ویس افغان نے کہا ہے کہ اس وقت طالبان سوچ کے لحاظ سے کم از کم تین دھڑوں میں بٹّے ہوئے ہیں۔ بقول ان کے، شاید یہ سچ بھی ہو کہ القاعدہ سے جو اس وقت افغانستان میں ایک پوشیدہ تنظیم ہے طالبان کے رابطے موجود ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ طالبان تحریک بطور مجموعی القاعدہ سے رابطے میں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات راز نہیں رہ سکتی تھی۔

میر ویس افغان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے طالبان پر دباو¿ پڑ سکتا کے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کریں۔

Share This Article
Leave a Comment