بھارتی ریاست اترپردیش میں مذہبی اجتماع ’ست سنگ‘ کے دوران بھگدڑ مچنے سے 107 افراد ہلاک ہو گئے جس میں سے اکثریت خواتین کی ہے جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق مرنے والوں کی لاشوں کو ہتھراس کے ساتھ ساتھ قریبی ضلع ایتاہ کے ہسپتال میں لے جایا گیا۔
علی گڑھ کی کمشنر چیترا وی نے تصدیق کی کہ واقعے میں 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 27 اموات ضلع ایتاہ میں ہوئیں جبکہ واقعے میں 18 افراد زخمی بھی ہوئے۔
اس سے قبل ہتھراس کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آشیش نے بتایا تھا کہ اب تک واقعے میں 60 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ایتاہ میں موجود ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ وہاں بھی کم از کم 27 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔
سینئر پولیس افسر راجیش کمار سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھگدڑ ہتھراس ضلع کے گاؤں میں جاری ’ست سنگ‘ کے دوران مچی جس کا اہتمام مانو منگل ملن ساد بھاونا سماگم کمیٹی نے کیا تھا۔
ایک عینی شاہد نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم ’ست سنگ‘ کے لیے آ رہے تھے جہاں بہت بھیڑ تھی، جب ’ست سنگ‘ ختم ہوا تو ہم نے وہاں سے نکلنا شروع کیا، وہاں سے نکلنے کا راستہ تنگ تھا، جب ہم نے گاؤں کی طرف سے باہر نکلنے کی کوشش تو ایک بھگدڑ مچ گئی اور ہمیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرنا ہے، وہاں کئی لوگ مارے گئے۔
ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ جب ’ست سنگ‘ ختم ہوا تو سب نے باہر کا رخ کیا، باہر جو سڑک بنائی گئی تھی وہ اونچائی پر تھی اور نیچے نالا بہہ رہا تھا، لوگ ایک کے بعد ایک اس میں گرتے رہے اور کچلے گئے۔