ڈاکٹر دین کی جبری گمشدگی کو 15 سال مکمل ، نیدرلینڈز میں پمفلٹ تقسیم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ نیدرلینڈز چیپٹرکی جانب سے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 15 سال جبری گمشدگی کے خلاف نیدرلینڈز کے شہر نورد ہالینڈ، زیڈ ہالینڈ، نورڈ ہالینڈ، زیلینڈ، نورد، ہالینڈ ، برابانٹ، لمبرگ، یوٹریچٹ، گیلڈرلینڈ، فلیولینڈ، اوورجیسل، ڈرینتھ، فریز لینڈ، گروننگن میں پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔

ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28 جون2009کو ضلع خضدار کے علاقے ”اورناچ“ سے دورانِ ڈیوٹی ہسپتال سے پاکستانی خیفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا جو تاحال لاپتہ ہے۔

ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے بازیابی کے لئے ان کی صاحبزادیاں سمی بلوچ اور مہلب بلوچ ریلی و مظاہروں کا اہتمام کرتی آرہی ہیں، سمی بلوچ نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے کوہیٹہ سے اسلام اباد 2500 سو کلو میٹر پیدل لانگ مارچ کی تھی۔

سمی بلوچ کے مطابق ان کے والد کی جبری گمشدگی کو ۱۵سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے لیکن تمام تر حکومتی یقین دہانی دہانیوں کے باوجود ان کی بازیابی تاحال ممکن نہیں ہوئی ہے۔

ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کے 15 سال مکمل اور بلوچستان سے ہزراوں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نیدرلینڈرز میں پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔ پمفلٹ کا مقصد بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزوں پر عالمی برادری کو آگاہ کرنا اور عالمی دنیا سےدرخواست کرتے ہیں بلوچستان میں جتنی جبری گمشدگیاں ہورہی ہیں وہ اس میں ہماری آواز بن جائیں۔

Share This Article
Leave a Comment