پسنی: جبری گمشدگی کیخلاف جاری دھرنا مظاہرین پر فورسز کاحملہ ،خواتین پر تشدد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں کوسٹل ہائی وے پر زیروپوائنٹ کے مقام پر طالب علم بہادر بشیر کی جبری گمشدگی کیخلاف جاری دھرنامظاہرین پرجمعرات کی صبح پاکستانی فورسز نے دھاوا بول پر نہتے خواتین وبچوں اور نوجوانوں کو تشددکا نشانہ بناکر زبردستی راستہ کھول کراپنے گاڑیوں کا قافلہ گزارا۔

اس دوران دھرنا مظاہرین نے مزاحمت کی تو فورسز نے انہیں تشدد کا نشانہ بناکر ان کے موبائل چھینے اور لاٹھی چارج کی۔

فورسز کی تشدد سے کئی نوجوان سمیت خواتین وبچے زخمی ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر جاری کئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح فورسز بندوق کے زور پر دھرنا مظاہرین کوتشدد کے ذریعے راستے سے ہٹا رہی ہے۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ فورسز کی تشدد سے کئی خواتین بھی زخمی ہوئے ہیں ۔

مظاہرین نے بتایا کہ پاکستانی فورسز نے ایک مریض کے بہانے زبردستی راستہ کھولنے کی کوشش کی تاہم انکے ساتھ کوئی مریض نہیں تھا جب مظاہرین نے انہیں مریض دکھانے کی بات کی تو فورسز نے انکے موبائل چھین کر ان پر تشدد کیا ۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ جب تک لاپتہ طالب علم کو رہا نہیں کیا جاتا دھرنا جاری رہے گا۔

لاپتہ طالب علم کے بھائی کا کہنا ہے کہ چار روز قبل انکے بڑے بھائی، جو کراچی یونیورسٹی کا طالب علم ہے، کو لاپتہ کیا گیا جسکہ کے ردعمل میں ہم نے پسنی زیرو پوائنٹ کو بلاک کردیا تھا، بعد ازاں پسنی انتظامیہ کی جانب سے سرکاری سطح پر دو دن مانگے گئے جس کے چلتے ہم نے دو دن کیلے دھرنا موخر کردیا تھا ، انتظامیہ کی جانب وعدہ شکنی پر ہم نے کل سے مکران کوسٹل ہائی وے زیرو پوائنٹ پسنی بلاک کردیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ جب تک بہادر بشیر کو بازیاب نہیں کیا جاتا ہم دھرنا دے رہے ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment