بلوچ ، سندھی وپشتونوں کیخلا ف فوجی جارحیت کی باقاعدہ منظوری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی نام نہاد سول اور عسکری حکام نے بلوچستان سمیت سندھ اور کے پی کے میں بلوچ ،سندھی وپشتون اقوام کیخلاف فوجی جارحیت کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے ۔

واضع رہے کہ بلوچستان ، سندھ وکے پی کے میں فوجی آپریشن کے نام پرپاکستانی فوج کی جنگی جرائم وانسانی حقوق خلاف ورزیاں دودہائیوں سے زائد جاری ہیں جہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ، جبری گمشدگی کی ایک انسانیت سوزجرائم جاری ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگ ماورائے عدالت لاپتہ ہیں ، ہزاروں افراد قتل کئے گئے جن کی لاشیں ویرانوں میں گھلی سڑی حالت میں برآمد ہوئیں۔

گذشتہ روزچین کے ایک وزیر کی اس بات پر کہ پاکستان میں سرمایہ کاری بغیر سیکورٹی استحکام کےممکن نہیں ہے تو پاکستان کے مقتدر حلقوں نے فوجی آپریشن کے نام پر جاری پاکستانی فورسز کی جنگی جرائم کو قانونی شکل میں اس کی باقائدہ منظوری دیدی ہے ۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد شائع ہونے والے اعلامیے کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز نے اتفاق رائے سے عسکریت پسندی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ’عزم استحکام‘ آپریشن عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے قومی عزم کا اظہار ہے۔

اجلاس میں پاکستان کے مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلی، چیف سیکرٹریز نے شرکت کی اور انسداد عسکریت پسندی کی جاری مہم کا ایک جامع جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں داخلی سلامتی کی صورتحال، نیشنل ایکشن پلان کے کثیرالجہتی اصولوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں خامیوں کی نشاندہی پر زور دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق انسداد عسکریت پسندی کی جامع اور نئی جاندار حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور چینی باشندوں کی سکیورٹی کے لیے وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئے ایس او پیز متعلقہ اداروں کو ارسال کر دیے گئے جو چینی باشندوں کو جامع سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کریں گے۔

ایپکس کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق سیاسی اور سفارتی سطح پر علاقائی تعاون کے ذریعے عسکریت پسندوں کی آپریشنل سپیس ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔

خدشہ ہے کہ ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ اس جنگی جرائم کو بلوچستان ، سندھ و خیبر پختونخوا سمیت دیار غیر میں مقیم بلوچ سندھی و پشتون قوم پرستوں کیخلاف بھی استعمال کیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment