بلوچستان کاسال 2024-25 کابجٹ پیش،امن وامان کیلئے 93ارب مختص

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کا 2024-25 کا بجٹ کٹھ پتلی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے پیش کیا۔جس میںامان وامان کے نام پر پاکستانی فوج و دیگر سیکورٹی فورسزکیلئے 93ارب مختص کئے گئے۔

شعیب نوشیروانی کے مطابق بلوچستان حکومت کا زیادہ انحصار وفاقی محصولات پر ہے، 726.6 ارب روپے وفاقی محصولات ہوں گے، ڈویلپمنٹ سیکٹر کیلئے321 ارب روپے مختص کیے، غیرترقیاتی اخراجات کا حجم 609 ارب روپے ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق تعلیم کے شعبے کیلئے 149ارب روپے مختص ہیں،شعبہ صحت کیلئے57 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

شعیب نوشیروانی نے3 ہزار نئی سرکاری آسامیوں کا اعلان کیا اور بتایا کہ لا اینڈ آرڈر کیلئے 93ارب ، گمبٹ اسپتال کی طرز پر بلوچستان میں اسپتال بنائیں گے۔صحت، تعلیم اور بلدیات کے لیے ریکارڈز فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے۔تین ہزار نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔

بجٹ دستاویز کے مطابق بجٹ کا حجم 9 کھرب 30 ارب 20 کروڑ 6 لاکھ روپے ہے۔

کٹھ پتلی بلوچستان کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تجاویز کی منظوری دے دی ۔

کٹھ پتلی وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بجٹ عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوگا،وفاق نے پی ایس ڈی پی سے متعلق خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

بلوچستان اسمبلی اجلاس سے قبل وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں بلوچستان کابینہ نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اتفاق بھی کیا گیا کہ آئندہ مالی سال 100فیصد منظور شدہ ترقیاتی منصوبے شامل ہوں گے۔

کابینہ کو محکمہ خزانہ نے بریفنگ میں بتایا کہ بجٹ میں صحت اور تعلیم ترجیح شعبے ہیں۔ لائیو اسٹاک، منرل اینڈ مائینز کی ترقی کے منصوبے نئے بجٹ میں شامل ہیں۔

کابینہ نے نئے پنشن کنٹری بیوشن اسکیم کی منظوری دی۔ نئی پنشن اسکیم کا اطلاق نئے مالی سال سے نافذ کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں 3 ہزار نئی آسامیاں شامل ہوں گی۔

اس موقع پر وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ 70 فیصد منظور شدہ ترقیاتی منصوبے بجٹ تجاویز کا حصہ ہیں۔ نئے مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر پہلے ماہ سے ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تمام بلوچستان وزرا اور اراکین اسمبلی اپنے اپنے محکموں اور حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے، منصوبوں پر عمل درآمد میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں کو مزید فنڈز کا اجرا نہیں کیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment