خاران و ہوشاپ سے پاکستانی فورسز ہاتھوں مزید 3 نوجوان جبراًلاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جنگی جرائم کی ننگی ناچ میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور نوجوان و طلبا اس کی مخصوص ہدف ہیں۔

خاران و ہوشاپ سے فورسز نے مزید 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبراًلاپتہ کردیا ہے۔

خاران سے لاپتہ کئے جانے والے نوجوانوں کی شناخت بلال بلوچ اور فضل بلوچ جبکہ ہوشاپ سے نوید ولد لعل بخش کے نام سے ہوگئی ہے ۔

خاران میں فورسز نے گزشتہ شب کلی تاگزی کے علاقے سے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔

لاپتہ کئے جانے والے نوجوانوں کی شناخت بلال بلوچ اور فضل بلوچ ولد غلام جان کے ناموں سے ہوئی ہے جوکہ دونوں کزن ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فضل کو جبراً لاپتہ کر نے دوران فورسز نے اسے زدکوپ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے بھائیوں کی بازیابی اور فورسز کے ظالمانہ سلوک کے خلاف علاقہ مکینوں نے احتجاجاً آج جنگل روڈ کو بلاک کردیا ہے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے ہوشاب میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے ایک نوجوان کو زبردستی اغواہ کرکے لاپتہ کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 19 جون کو ہوشاب زیرہ پوائنٹ پر گاڑی میں سوار خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے صبح دس بجے کے قریب نوید ولد لعل بخش سکنہ ہوشاب تنک نامی نوجوان کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

واضح رہے کہ فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ پورے بلوچستان میں جاری ہے۔ متعدد علاقوں میں لواحقین و عوام نے نوجوانوں کی بازیابی کیلئے احتجاجی دھرنے دیے ہوئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment