پاکستان میں توہین قرآن کے الزام میں سیاح کا بے رحمانہ قتل ،پولیس اسٹیشن نذرآتش

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں مشتعل ہجوم نے توہینِ قرآن کا الزام لگا کر ایک سیاح کو پولیس کی تحویل سے زبردستی نکال کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کر دیا ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کی شب سوات سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع مدین نامی قصبے میں پیش آیا اور تاحال یہ واضح نہیں کہ قتل کیے جانے والے شخص پر کس وجہ سے توہینِ قرآن کا الزام لگایا گیا۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر زاہد اللہ کا کہنا تھا کہ مدین میں مقامی لوگوں نے ایک سیاح پر قرآن کی توہین کا الزام لگایا اور اس واقعے کی اطلاع ملنے پر جب مقامی پولیس موقع پر پہنچی تو بازار میں لوگوں نے اس سیاح کو گھیرے میں لے رکھا تھا تاہم پولیس اہلکار اسے لوگوں کے نرغے سے نکال کر تھانے لے جانے میں کامیاب رہے۔

پولیس حکام کے مطابق ’پولیس کے پیچھے پیچھے مشتعل ہجوم بھی تھانے آن پہنچا تاہم پولیس نے ملزم کی جان بچانے کے لیے تھانے کے گیٹ بند کر دیے‘۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران علاقے کی مساجد میں اعلانات کیے گئے جس پر بڑی تعداد میں لوگ تھانے کے باہر پہنچ گئے اور سیاح کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہجوم میں شامل افراد نے پہلے تھانے پر پتھراؤ کیا اور پھر دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہو گئے اور تھانے کی عمارت اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور اس دوران پولیس اہلکاروں کو بھی معمولی چوٹیں آئیں۔‘

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین جب تھانے میں داخل ہو گئے تو پولیس اھلکار فرار ہو گئے اور تھانے کو خالی کر دیا ۔

مقامی شخص کے مطابق مظایرین نے پولیس تھانے کے اندر توہین مذہب کے مبینہ ملزم کو پہلے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور بعد میں لاش کو آگ لگادی ۔ مظاہرین سلگتی لاش کو تھانے کے باہر سڑک پر لے جاکر گھسیٹتے رہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ہجوم کو تھانے پر دھاوا بولتے اور املاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے اس بات کی تصد یق کی ’مذکورہ شخص کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا تھا مگر مشتعل ہجوم تھانے پر حملہ کر کے اسے تشدد کرتے ہوئے تھانے سے باہر لے آیا اور قتل کر دیا‘۔

اس واقعے کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو ایک جلتی ہوئی لاش کے اردگرد جمع ہو کر مذہبی نعرے بازی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوات کے ضلعی پولیس افسر ڈاکٹر زاہد اللہ کے مطابق ’علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور کالام سے آنے والی ٹریفک اور سوات سے جانے والی ٹریفک کو وقتی طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ حالات کو بہتر کیا جا سکے۔‘

Share This Article
Leave a Comment