بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں مشکے اور دکی میں پاکستانی فوج اور انکے کارندوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مشکے اور دکی میں دو مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج کے ایک اہلکار سمیت دو مقامی کارندوں کو ہلاک کردیا۔
انہوںنے کہا کہ سرمچاروں نے آواران کے علاقے مشکے میں ایک حملے میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے دو کارندوں کو ہلاک کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے مشکے کے علاقے نوکجو پُچڑ میں کارروائی کرتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ کے دو کارندوں دولت محمد حسنی اور مرید محمد حسنی کو ہلاک کردیا۔ سرمچاروں نے مذکورہ کارندوں کا اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ افراد میر دینو کی سربراہی میں مشکے و گردنواح میں قابض فوج کے ہمراہ گھروں پر چھاپوں، لوگوں کو جبری لاپتہ کرنے اور ان پر تشدد کرنے میں برائے راست ملوث تھے۔ مذکورہ سرکاری مسلح جھتہ غریب بلوچوں سے جبری مزدوری لینے اور عام لوگوں پر بلاوجہ تشدد کرنے میں ملوث ہے۔
انہوںنے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے دکی میں قابض پاکستانی فوج کے ایک پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے جدید ہتھیاروں اور گرنیڈ لانچر سے گولے داغ کر دشمن فوج پر حملہ کیا جس میں ایک دشمن اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ انہیں مزید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔