بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار 6 نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے جن میں 2 کی دماغی صحت ٹھیک نہیں ہے ۔
تربت کے علاقے آبسر کولواہی ڈنے بازار سے تعلق رکھنے والے ایک ہی فیملی کے 4 نوجوان وسیم حسن، اعجاز شیران، صالح طارق اور امتیاز اقبال کوگزشتہ شب رات 1 بجے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ہیں۔
ان نوجوانوں کو 18 مئی 20124 کو انکے گھر سےاٹھایا گیا تھا ۔
واضع ر ہے مذکورہ نوجوانوں کی فیملی نے ڈی سی کیچ کے آفیس کے سامنے انکی بازیابی کے لیے دھرنا دیا تھا ۔
فیملی کے مطابق بازیاب ہونے والے ان چار نوجوان میں صالح طارق اور ایک اور نوجوان کی دماغی صحت ٹھیک نھیں ہے ۔
اسی طرح 13 جون 2021 کو تُربَت آپسر سے جبری گمشدگی کے شکار عبدالباسط ولد عبدالواحد 6 جون 2024 کو بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔
لواحقین نے ان کے بازیابی کی تصدیق کی ہے۔
علاوہ ازیں زامران سے لاپتہ نوجوان داؤد عبدالوہاب بازیاب ہوکر گذشتہ شب اپنے گھر پہنچ گئے جب کہ ان کے ہمراہ لاپتہ کیے گئے ان کے رشتہ دار شہزاد عبید ابھی تک لاپتہ ہیں۔
یاد رہے کہ داؤد عبدالوہاب اور شہزاد عبید کو نوانو زامران سے لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کی بازیابی کے لیے لواحقین نے پانچ دنوں تک ڈی سی کیچ کے آفس کے سامنے دھرنے میں حصہ لیا تھا۔