بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کی عالمی فہرست میں اسرائیل و حماس شامل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کے لئے اسرائیل کے ایلچی جیلاد ایردن نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی فوج کو 2023 میں بچوں کےحقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والوں کی عالمی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو "شرمناک” قراردیا۔

ایک سفارتی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کو بھی اس فہرست میں رکھا جائے گا۔

ایردن نے کہا کہ انہیں جمعہ کو اس فیصلے کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کیا گیا ہے۔ یہ عالمی فہرست بچوں اور مسلح تصادم سے متعلق ایک رپورٹ میں شامل کی گئی ہے جسے گوتریس 14 جون کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کررہے ہیں۔

اس رپورٹ میں چھے خلاف ورزیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، قتل اور معذوری، جنسی تشدد، اغوا، بچوں کی بھرتی اور استعمال، امداد تک رسائی سے انکار اور اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسرائیل، حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کو کن خلاف ورزیوں کے لیے فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔

اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اس فیصلے کے”اقوام متحدہ کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پر اثرات مرتب ہوں گے۔”

اقوام متحدہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ حماس کے زیر اقتدار غزہ میں آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران کم از کم 7,797 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے شناخت شدہ لاشوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، جسے اقوام متحدہ قابل اعتماد سمجھتی ہے، غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے 15 ہزار بچے مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کی نیشنل کونسل فار دی چائلڈ کے مطابق، 7 اکتوبر کو حماس کے زیر قیادت حملے میں 38 بچے ہلاک ہوئے تھے ، جس نے جنگ کو جنم دیا اور 7 اکتوبر کو غزہ میں یرغمال بنائے گئے 250 افراد میں سے 42 بچے تھے۔ دو بچوں کے علاوہ باقی سب کو رہا کر دیا گیا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس جمعرات کے روز غزہ میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول پر اس اسرائیلی حملے کی مذمت کی جس میں37 لوگ ہلاک ہو ئے تھے۔ جن میں مبینہ طور پر بچے بھی شامل تھے۔

اسرائیلی فوج کا الزام ہے کہ اسکول میں غزہ کے ایک ہسپتال کی طرز پر حماس کا ایک کمپاؤنڈ موجود تھا۔

Share This Article
Leave a Comment