کراچی کے علاقے ملیر میں سید ہاشمی ریفرنس لائبریری کے زیر اہتمام معروف بلوچ دانشور و مصنف پروفیسر صباءدشتیاری کی 13ویں برسی کے تقریب میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن وبلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر صباءدشتیاری نے اپنی زندگی بلوچ قوم کی علمی آبیاری کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ بلوچ اپنے قومی ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتا، جب تک بلوچ زندہ ہے بلوچستان قائم ہے پروفیسر صبا دشتیاری زندہ رہیں گے۔
منعقدہ تقریب میں بلوچی ادب کے قارئین و اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہنا تھاکہ پروفیسر صبا دشتیاری میرے استاد تھے، انہوں نے اپنی زندگی بلوچ قوم کی علمی آبیاری کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ مجھے فخر ہے میرا تعلق ایسی قوم سے جو اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔
انہوںنے کہا کہ جب تک بلوچ زندہ ہے بلوچستان قائم ہے پروفیسر صبا دشتیاری زندہ رہینگے۔
تقریب میں بلوچی زبان کے نامور مصنف اے آر داد، شاعر و نقاد اسحاق خاموش، پروفیسر رمضان بامری، غلام رسول بلوچ، سید ہاشمی ریفرنس لائبریری ملیر کے صدر اکبر ولی و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا پروفیسر صبا دشتیاری ادب و لسانیات کے مضامین میں مہارت رکھتے تھے ۔انہوں نے بلوچی زبان و ادب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ پروفیسر صباءدشتیاری ایک کمیٹیڈ انسان تھے وہ زندگی بھر بلوچ قوم و بلوچی زبان کی خدمت کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صبادشتیاری نے مختلف موضوعات پر 12 سے زائد کتابیں لکھیں، لسانیات کے مضمون میں ان کی تحریر کردہ کتب نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر صباءدشتیاری نہ صرف کتابوں کے مصنف تھے بلکہ انہوں نے نوجوانوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مقررین نے کہا بلوچ کو پہچاننے کے لئے اس کی قومی نفسیات کو سمجھنا ہوگا۔ بلوچ مشکل حالات میں جینے کا ہنر جانتا ہے۔ اس ملک کی پچھتر سالہ تاریخ میں بلوچ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی پروفیسر صباءدشتیاری نے بلوچ کے بارے میں اس لاعلمی کے خلاف جدوجہد کی۔