ماشکیل سے کوئٹہ تک لانگ مارچ مظاہرین کی پریس کانفرنس،ایران سرحدی راہداری کی بحالی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کرنے والے مظاہرین نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایران بارڈر پر واقع واشک کے تحصیل ماشکیل میں پاک ایران بارڈر کی طویل بندش طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کی آمد کی وجہ سے راستوں کے بند ہونے سے پیدا ہوتے سنگین صورتحال کے ساتھ ماشکیل کے آبادی کو درپیش مسائل و مشکلات سے تنگ آ کر اہلیان ماشکل نے پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 22 اپریل کو ماشکیل شہر میں احتجاجی کیمپ لگا کر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کیا لیکن کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ چنانچہ اعلی حکام کی توجہ حاصل کر کے مسائل حل کرنے کی غرض سے ماشکل تا کوئٹہ پیدل لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا۔ شدید گرمی میں دشوار گزار اور صحرا و بیاباں عبور کر کے 700 کلومیٹر پیدل لانگ مارچ کر کے کل شام کو پہنچے ہیں۔

انہوں نے کہا ہمارا مارچ پرامن اور مطالبات جائز و جمہوری ہیں، ہم بلوچستان حکومت سے صحافی حضرات کے توسط سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ماشکیل کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر فوری طور پر حل کریں۔

انہوں نے کہا ہم نے طویل مصائب جھیل کر کوئٹہ تک پہنچے ہیں اور ہم اپنے جائز مطالبات کی عملی منظوری تک اپنا احتجاج نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ اگر ہمارے جائز مطالبات منظور کرنے میں کوتاہی سے کام لیا گیا تو ہم اپنے احتجاج میں وسعت اور شدت لا کر ریڈ زون میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے اس متعلق کسی قسم کا نہ خوشگوار واقعہ پیش آیا تو ذمہ دار ہم نہ ہوں گے۔

انہوں نے اپنے درج ذیل مطالبات پیش کیئے۔

  1. ماشکیل شہر میں ایران سے اشیاء خوردونوش اور دونوں اطراف میں آباد خاندانوں کی سہولت کیلئے راہداری کے اجراء کو یقینی بنانے کیلئے مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو بلا تاخیر کھولا جائے۔
  2. کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرتے ہوئے گزشتہ پانچ سالوں سے بند زیرو پوائنٹ کو کھولا جائے۔
  3. قانونی گزر گیٹ میں اتوار کی چھٹی ختم کی جائے۔
  4. نوکنڈی ٹو ماشکیل سڑک کی تعمیر میں سست روی کا نوٹس لے کر تعمیراتی کام کی رفتار تیز کی جائے۔
Share This Article
Leave a Comment