بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں خاص کر گزشتہ روزمشکے میں ایک بلوچ خاتون کی جبری گمشدگی کیخلاف بلوچستان کے ساحلی شہر و سی پیک مرکزگوادر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
یہ احتجاجی مظاہرہ گزشتہ روز31 مئی کوبلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر ہتمام گوادر پریس کلب کے سامنے کیا گیا ۔
احتجاجی مظاہرے سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں سالوں سے جبری گمشدگی کے شکار عظیم دوست کے ہمشیر رخسانہ دوست ،لاپتہ نسیم بلوچ و رفیق بلوچ کے اہلخانہ نے مشکے میں لاپتہ بلوچ خاتون سمیت اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کا مظالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے پیاروں کی گمشدگی پر ذہنی کرب واذیت کا شکار ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے قانون کے تحت انہیں عدالتوں میں پیش کرے نا کہ ماورائے عدالت انہیں غائب و قتل کرکے ان کی لاشیں پھینک دی جائیں۔
احتجاجی مظاہرے سے سیاسی وسماجی کارکن ماجد سھرابی اور سابق چیئرمین بی ایس اوسعید فیض نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ادارے مکمل طور پرناکام ہیں ۔ اور وہ اپنی ناکامی چھپانے کیلئے بے گناہ بلوچ فرزندان کو جبری لاپتہ کرکے انہیں اپنی اذیت گاہوں میں قید کرتے ہیں جس سے ان کی خاندان اذیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست جتنی ظلم وزیادتی کرے گی جبری گمشدگیوں کیخلاف بی وائی سی کی تحریک اتنی منظم و محکم ہوگی۔آج ہر بلوچ گھر میں ریاست کیلئے سوائے نفرت کے کچھ بھی نہیں ہے ۔
انہوںنے کہا کہ بی وائی سی بلوچ اور بلوچستا نکیخلاف جاری ہر ظلم وزیادتی پر آواز اٹھاتی رہے گی۔