بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں صحافی و سوشل میڈیا ایکٹویسٹ فیصل ساکرانی جبری گمشدگی کے بعد بازیاب ہوگئے۔
سوشل میڈیا ایکٹویسٹ فیصل ساکرانی و صحافی کے اغوا کے خلاف ساکران اور حب میں عوامی حلقوں اور سیاسی کارکنوں نے احتجاج کیا اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے مذمت اسکی گمشدگی مذمت کی گئی۔
مظاہرین نے مطابق سوشل میدیا ایکٹویسٹ فیصل ساکرانی کو سی ٹی ڈی کیخلاف سوشل میدیا پر خبریں وائرل کرنے کی پاداش میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز شام کے وقت ساکران کے علاقے ماموں ہوٹل کے مقام سے ساکران کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ فیصل ساکرانی کو دوگاڑیوں میں سوار بعض نامعلوم مسلح افراد زبردستی پر اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ساکران کے اہل علاقہ اور سیاسی کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور صحافی بھی ساکران پہنچ گئے۔
اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے سڑک بلاک کردی ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ صحافی فیصل ساکرانی کو مبینہ طور پر CTDکے خلاف سوشل میڈیا پر خبریں پوسٹ کرنے کی پاداش میں اغوا کیا گیا ہے تاہم اہل علاقہ اور صحافیوں کے احتجاج اور بعض علاقائی معتبرین کی مداخلت پر فیصل ساکرانی کو رہا کردیا گیا ۔
صحافی فیصل ساکرانی کے اغوا کے حوالے سے لسبیلہ پریس کلب کے ممبران نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ادارے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بجائے اپنے دائرہ اختیار اور اپنی اصلاح پر توجہ دیں۔