بی ایس او کے چئیرمین بالاچ قادر نے سراوان پریس کلب مستونگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناقص منصوبہ بندیوں سے بلوچستان کے کالجز تباہ ہوچکے،جامعہ بلوچستان سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو مفلوج کرنے کا مقصد بلوچ طلباء کو اعلیٰ تعلیمی مواقعوں سے محروم رکھنا ہے۔
اس موقع پر سابق چئیرمین بی ایس او جہانگیرمنظوربلوچ،سینٹرل کمیٹی کے اراکین بیبگرواحدبلوچ،اسرار بلوچ ،مستونگ زون کے آرگنائزر جمیل بلوچ اور دیگر تنظیمی ذمہ داران انکے ہمراہ تھے۔
انھوں نے کہا کہ میں گزشتہ ایک ماہ سےمختلف علاقوں میں تنظیمی دورے پر ہوں۔ بلوچستان کے تمام علاقوں کا پسماندگی مشترکہ ہے۔ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی،طلباء کے مشکلات منشیات اور دیگر مسائل بلوچ وطن کے کونے میں موجود ہیں۔بلوچستان میں سرکاری سرپرستی سے منشیات کا کاروبار ہو رہا ہے جس سے ایک نسل تباہ ہوگیا۔ بلوچ نوجوانوں کومنشیات کی لت میں مبتلاء کرنا ایک پالیسی کے تحت جاری ہے۔
چئیرمین بی ایس او نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ وسائل کی استحصال اور معدنیات کی لوٹ مار کو دوام بخشنے کیلئے نت نئے پالیسیوں کا اجرا کیا جارہا ہے۔ بلوچ قوم کونان شبینہ کا محتاج بنایا گیاہے۔مالی بحران کا خود ساختہ پالیسی اپنا کر تعلیمی اداروں کو مفلوج کردیا گیا ہے۔جامعہ بلوچستان گزشتہ کئی سالوں سے مالی بحران کا شکار ہے۔ اساتزہ سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے دانستہ طور معاملے کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ جامعہ بلوچستان سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو مفلوج کرنے کا مقصد بلوچ طلباء کو اعلیٰ تعلیمی مواقعوں سے محروم رکھنا ہے۔
چئیرمین بی ایس او نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں کے اوپر سیکورٹی چیک پوسٹ قائم کیے گئے ہیں۔ چیک پوسٹوں کی موجودگی میں ایسے اسکول بھی ہیں جو مکمل بند ہیں جبکہ زیادہ تر اسکولوں میں ان چیک پوسٹوں کی موجودگی سے طلباء و اساتزہ خوف میں مبتلاء ہیں۔ ہمارا پہلے ہی دن سے مطالبہ ہے کہ بندوق اور کتاب ایک ساتھ نہیں ہوسکتے لہذاً تعلیمی اداروں میں موجود چیک پوسٹوں کو فوری ختم کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ مستونگ میں بلوچستان یونیورسٹی کا کیمپس اب تک عمارت سے محروم ہے جبکہ اساتزہ تنخواہوں سمیت اسٹاف روم،آفس اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مستونگ کمیپس کے سینکڑوں طلباء و طالبات کے صرف دو بسیں موجود ہیں جس ٹرانسپورٹیشن کابہت بڑا مسئلہ ہے جبکہ مستونگ کیمپس میں اساتزہ کی تعداد انتہائی کم ہے جس سے طلباء کو تعلیمی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح مستونگ ڈگری کالج میں بی ایس پروگرام کو چلانے کیلئے اساتزہ موجود نہیں۔ ،اسکولوں میں درسی کتب میسر نہیں ہے۔ بلوچستان کا محکمہ تعلیم کاروبار کا مرکز بن چکا ہے۔ سرکاری کتابوں کی فروخت سمیت بوگس اساتزہ تک محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران شریک ہیں۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم کے نام پر کاروبار افسوسناک ہے جس کے خلاف ہر زی شعور طبقے نے آواز بلند کرنا ہوگا۔