ہزاروں لوگوں کی گمشدگی کو مذاق سمجھنا کسی المیے سے کم نہیں،صدف امیر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 10 سالوں سے جبری گمشدگی کے شکار امیر بخش بلوچ کی صاحبزادی صدف امیر نے اپنے ایک بیان میں پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا نے لاپتہ افراد کے لواحقین کا مکمل بلیک آؤٹ کیا ہے۔ اس وقت نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گمشدگیوں کا ہے ، ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ کسی کا ٹھکانہ اور خیریت کسی کو معلوم نہیں لیکن مین اسٹریم میڈیا، عدلیہ اور پارلیمنٹ والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاتون ایم پی اے کا پرس غائب ہو جائے تو قانون حرکت میں آتا ہے اور ہزاروں لوگوں کی گمشدگی کو مذاق سمجھا جاتا ہے جو کہ کسی المیے سے کم نہیں۔

صدف امیرنے کہا کہ میرے والد امیر بخش بلوچ کو 4 اگست 2014 کو کلانچ سے لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔ میں بار بار اپیل کرتی ہوں کہ میرے بابا امیر بخش کو بازیاب کیا جائے اور ہمیں اس اذیت سے نکالیں لیکن کوئی ہماری بات نہیں سنتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گمشدگیوں کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور خاص طور پر بلوچ قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔ ہر گھر اور ہر خاندان اس درد کے ساتھ جی رہا ہے۔ ایسا ہی ایک خاندان سائرہ اور سعدیہ کا ہے جن کے خاندان کے تین افراد لاپتہ ہیں۔ راشد، آصف 6 سال سے لاپتہ ہیں جبکہ سلمان ڈیڑھ سال سے لاپتہ ہیں۔ لیکن عدلیہ سمیت کمیشن صرف ٹائم پاس کر رہے ہیں، کوئی ادارہ سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے، اس لئے بلوچ وائس فار جسٹس کی جانب سے 24 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راشد، آصف اور سلمان کی بازیابی کے لیے مہم چلائی جائے گی۔

Share This Article
Leave a Comment