بلوچستان کے دکی کے علاقے سنجاوی میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئلے سے لوڈ ٹرکوں پر حملہ کیا ۔جس سے ایک ڈرائیور موقع پر ہلاک اور3 زخمی ہوگئے جبکہ 4 ڈرائیورزکو اغواکرلیا گیا۔
واقعہ سنجاوی کے علاقے بغائو میں پاسرہ تنگی کے مقام پر پیش آیا۔
مسلح افراد نے کوئلے سے لوڈ ٹرکوں پر فائرنگ کرکے پیٹرول چھڑک کر ٹرکوں کو آگ لگادی ۔
لیویز ذرائع کے مطابق ٹرکوں پر مسلح افراد کے حملے میں ایک ڈرائیور موقع پر جانبحق جبکہ تین ڈرائیور زخمی ہوگئے۔
کوئلے سے لوڈ ٹرکیں ضلع دکی سے کوئلہ لوڈ کرکے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں کے لئے جارہے تھے۔
مسلح افراد نے مین دکی کوئٹہ شاہراہ پر ٹرکوں کو نشانہ بنایا۔
ٹرکوں پر فائرنگ اور پیٹرول چھڑکنے کے بعد پانچ ٹرک مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئے جبکہ چھٹے ٹرک کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
واقعے کے بعد لیویز اور ایف سی کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ۔
ٹرک ڈرائیور کے مطابق مسلح حملہ آوروں کی تعداد 6 تھی جوکہ پیدل آئے تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے آتے ہی اندھادھند فائرنگ شروع کی۔
واقعے میں ہلاک ہونے والے ٹرک ڈرائیور کی شناخت شاہ محمد ولد بازمحمد ساکن بغائو سنجاوی کے نام سے ہوگئی ہے۔جبکہ زخمیوں میں سے ایک زخمی عبدلقادر ولد عبدالمجید کا تعلق بھی بغائو کے علاقے سے ہے۔
واضح رہے کہ یکم فروری سے دکی کول مائنز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔مسلح افراد پہلے بھی ایف سی کے گاڑی ،کوئلے کے ٹرکوں اور کوئلہ کانوں پر حملے کرکے مزدوروں کو اغوا کرچکے ہیں۔
مسلح افراد کے کول مائنز پر حملوں کی وجہ سے سینکڑوں کوئلہ کانیں بھی کئی ماہ گزرنے کے باجود تاحال مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔
اس حملے کی ذمہ داری تا حا ل کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں بلوچستان بھر میں معدنیات کی لوٹ کھسوٹ میں شامل عناصر پر حملوں کی ذمہ داری آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔