کرغستان : بلوچستان طلبا کو لانے کیلئے حکومت کاوالدین سے رقم کی ڈیمانڈ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان وبلوچستان حکومت کی جانب سے کرغستان میں زیر تعلیم بلوچستان کے طلباءو طالبات کو واپس لانے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔

بلوچستان کے 300 سے زائد طلباءو طالبات کرغزستان میں زیر تعلیم ہیں حالات کی خرابی کے باعث انہیں واپس لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تا حال کوئی اقدام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کرغزستان میں پھنسے ہوئے طلباءو طالبات کے والدین شدید ذہنی کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں ۔

پنجاب اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد طلباءو طالبات کو واپس لایا جاچکا ہے لیکن بلوچستان کے زیر تعلیم طلباءو طالبات کو واپس لانے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔

کوئٹہ کے رہائشی ماہر تعلیم ساجد حسین نے میڈیا کو بتایا کہ میرا اور بیٹا اور بیٹی کرغزستان میں ایشیاءانٹر نیشنل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور مذکورہ تعلیمی ادارے میں تقریباً 5 بچے ہیں جبکہ کرغزستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں بلوچستان کے 300 سے زائد طلباءو طالبات زیر تعلیم ہیں ۔

وفاقی حکومت وزیر اعظم پاکستان ، وفاقی وزیر خارجہ اور دیگر حکام دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلباءو طالبات کو واپس لارہے ہیں لیکن بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباءو طالبات کے والدین سے فی طالب علم 1 لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کررہے ہیں جو بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسی سلوک ہے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی ، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی سمیت دیگر سے اپیل کی ہے کہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے بلوچستان طلباءو طالبات کو کرغزستان کے بگڑتے ہوئے حالات اور بد امنی کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے واپس لانے کے لئے خصوصی طور پر انتظامات کئے جائیں تاکہ والدین میں پائی جانے والی تشویش ، ذہنی اذیت اور قرب سے نجات مل سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment