بلوچستان کے افغانستان سے منسلک علاقے چمن میں پیر سے بلوچستان سے منسلک دیگرصوبوں کے شاہراہیں بندکرنیکا اعلان کیا گیاہے ۔
چمن میں 6جماعتی اپوزیشن اتحاد تحفظ آئین پاکستان نے کل پیر سے بین الصوبائی شاہراہیں بند کرکے ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے آج اتوار کو چمن بارڈر ایشو پر احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔
چمن میں گزشتہ 14 روز سے کوئٹہ چمن شاہراہ کو مظاہرین نے بند کیا ہوا ہے،کوژک ٹاپ کے پہاڑی سلسلے میں 20 کلومیٹر علاقے میں مال بردار ٹرکوں اور کنٹینرز کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور ڈرائیوروں کے خرچے ختم ہوگئے۔
دوسری جانب 4 مئی کے واقعہ کے بعد مظاہرین نے پچھلے دو ہفتوں سے بلوچستان افغان بارڈر ٹریڈ، کوئٹہ چمن شاہراہ کو بھی رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا۔
ضلع میں بنک Bisp دفتر سمیت پاسپورٹ دفتر بدستور بند ہیں پاسپورٹ دفتر کے سامنے مظاہرین نے خیمے لگا دیئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے وزرا کمیٹی کے دو روز تک مسلسل مذاکرات کے بعدواپس کوئٹہ جاتے ہوئے کٹھ پتلی وزیرداخلہ ضیا لانگو نے مثبت پیشرفت کا اظہار کیا تو اسی دوران دھرنا کمیٹی نے حکومتی ڈیمانڈز کو ڈیڈلاک بتا کر مذاکراتی عمل کو ناکام قرار دیامگر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے پہلے ہی سے چمن جانے اور وزرا کمیٹی کے مذاکراتی عمل سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے بعد بھی چمن جانے کا اعلان کیا مگر وزیراعلی کی چمن آمد میں فریقین کے ڈیمانڈز نے ایک نیا مسئلہ بنا دیااور تاخیر نے ایک اور تنازع بھی کھڑا کردیاہے۔
حکام کے مطابق مقامی انتظامیہ وزیراعلیٰ کی آمد سے قبل قومی شاہراہیں کھولنے، چمن کے داخلی وخارجی راستوں کا محاصرہ ختم کرکے بینک اور دیگر دفاتر سے رکاوٹیں ہٹاکر دھرنا مظاہرین کو واپس دھرنا کے مقام پر منتقل کرنے کی صورت میں وزیراعلیٰ کے چمن آنے کے لئے گرین سگنل دے گی ،مگر اس مطالبے کو دھرنا کمیٹی نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے جب بھی دھرنے والوں نے پہل کی تو انہیں دھوکہ دیا گیا ۔
ترجمان صادق اچکزئی کے مطابق وزرا کمیٹی کچھ دینے نہیں بلکہ لینے آئی تھی ۔اب جب وزیراعلی آئیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیں گلے لگائیں، ہمیں محب وطن قرار دیں اور مسئلے کو بتدریج حل کرنے کےلئے طریقہ کار طے کرکے ہمیں گارنٹی اور تحریری دیں کہ روزگار اور کاروبار کا کوئی مستقل حل نکالا جائے گا تب ہم دھرنے کو ختم کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔