انڈیا و ایران مابین چابہار پورٹ کو 10 سال تک چلانیکا معاہدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

انڈیا نے ایران کے ساحلی شہر چابہار میں واقع شہید بہشتی بندرگاہ کو چلانے کے لیے 10 سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اس بندرگاہ کے کنٹینر ٹرمینل میں سامان کی نقل و حرکت کو جدید طرز پر لایا جائے گا۔

ایران کے شہر تہران میں شہری ترقی کے وزیر مہرداد بازارپاش اور انڈیا کے جہاز رانی کے وزیر سرباندا سونووال نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق چابہار بندرگاہ کو جدید بنانے کے لیے انڈیا ’سٹریٹجک آلات کی فراہمی میں 120 ملین ڈالر کے ساتھ ساتھ اس کے ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر کے لیے 250 ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا۔‘

ایران عراق جنگ کے دوران آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے باہر بندرگاہ کی ضرورت کے پیشِ نظر 1983 میں شہید بہشتی بندرگاہ کو چابہار کی دوسری اہم ترین بندرگاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا پاکستان میں کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کو بائی پاس کرنے کے لیے ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر چابہار بندرگاہ کا ایک حصہ تیار کر رہا ہے اور چابہار کے راستے اپنا تجارتی سامان ایران، وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان کو برآمد کر رہا ہے۔

مہرداد بازارپاش کے مطابق گذشتہ سال تہران میں سہ فریقی اجلاس کے دوران انڈیا اور روس کو ’ایران راہ پروجیکٹ کا نقشہ‘ پیش کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ چابہار منصوبے اور ایران کے روڈ ریل نیٹ ورک کے ذریعے، انڈیا چابہار سے افغانستان اور وسطی ایشیا، ترکی، آذربائیجان، جارجیا اور شام تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بازرپاش نے انڈیا اور ایران کے درمیان ایک مشترکہ شپنگ کمپنی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

سربندا سونووال نے ایکس پر اس معاہدے کی تصاویر شائع کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے کے لیے ایک ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیا۔

انھوں نے لکھا کہ ’اس معاہدے سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ یہ انڈیا کے لیے عالمی سپلائی چین اور میری ٹائم سیکٹر میں قدم جمانے کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔‘

وہ اس معاہدے کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ان تجارتی منصوبوں کا حصہ سمجھتے ہیں جن کے مطابق وہ ایران، افغانستان، یوریشیا اور وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے متبادل تجارتی راستہ بنانے کے خواہاں ہیں۔

مہرداد بازارپاش نے بھی اس معاہدے کو ’دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات بڑھانے کے لیے بہت اہم‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ آج جس معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ چابہار ایران کی ترقی کا مرکز بنے گا اور چابہار-زاہدان ریلوے سیکشن کے آپریشن (جو اس اسل کے آخر تک مکمل ہو جائے گا) کے ساتھ اس معاہدے کی قدر میں اضافہ ہو گا۔

Share This Article
Leave a Comment