جبری گمشدگیوں متعلق مہذب اقوام کی خاموشی تشویشناک ہے،والدہ کبیر بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں سالوں سے لاپتہ کبیر بلوچ کی والدہ نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں اور خود ساختہ مہذب اقوام کی طویل خاموشی تشویشناک ہے۔ میرا بیٹا کبیر بلوچ اپنے دو ساتھیوں مشتاق اور عطا بلوچ سمیت 15 سال سے لاپتہ ہیں، کبیر بلوچ اور اس کے ساتھیوں کی جبری گمشدگی کی غیر انسانی معاملہ پر پاکستانی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، عدالتوں اور کمیشنز کا رویہ اور کردار انتہائی افسوسناک ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ ان اداروں کا یہ رویہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھنے میں ناکامی کو اجاگر کرتا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور علمبرداروں کو اس طرح کے مظالم کیخلاف آواز اٹھانے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے دعویداروں کے جبری گمشدگیوں کے معاملے پر کردار اور مسلسل لاتعلقی صرف متاثرین کے مصائب کو برقرار رکھتی ہے اور مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی خاموشی کو توڑیں اور انصاف، احتساب کے لئے اقدامات اٹھائیں اور جبری گمشدگیوں اور نسل کشی سے تمام افراد کے تحفظ کی وکالت کریں۔

Share This Article
Leave a Comment