پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی باقاعدہ طور پر ایف سی تعیناتی کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کی وفاقی حکومت واسٹیبلشمنٹ نے اب پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی باقاعدہ طور پر ایف سی کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے ۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ چینی باشندوں کی سیکیورٹی کویقینی بنانےکیلئے کیا جارہا ہے لیکن بلوچستان ، سندھ ،کے پی کے وپنجاب کی طرح اسے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے باقاعدہ بطورپر قانونی حیثیت دیاگیا ہے تاکہ شہری علاقوں میں پولیس کے کردار کو ختم کرکے سب کچھ فوج کے اپنے ہی کنٹرول میں رہے ۔

اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا کہنا ہےکہ آزاد کشمیر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے، چینی باشندوں اور بجلی گھروں کے لیے فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانےکے لیے فرنٹیئرکانسٹیبلری (ایف سی) تعینات کرنےکا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لینےکی اجازت دے دی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنےکے لیے ایف سی کی خدمات حاصل کرنے کے لیےدرخواست کی تھی۔

واضع رہے بلوچستان سمیت پنجاب ، کے پی کے وسندھ میں بھی امان و امان کے نام پر صوبائی حکومتوں کو مجبور کرکے ایف سی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور ہر دو یا تین سال میں تعیناتی معاہدے کی تجدید کی جاتی ہے اور یہ اس کی تمام تراخراجات صوبائی حکومتوں سے لیا جاتا ہے اور یہ معاہدہ کھبی ختم نہیں ہوتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی باشندوں کی فول پروف سیکیورٹی یقنی بنائی جائے گی، نیلم جہلم پاور ہاؤس، منگلا پاور ہاؤس اور گل پور پاور ہاؤس کی فول پروف سیکیورٹی کے لیے ایف سی تعینات ہوگی۔

ذرائع کےمطابق آزاد کشمیرمیں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 6 پلاٹونز تعینات کیےجائیں گے اور یہ تعیناتی 3 ماہ کے لیے ہوگی۔

یاد رہے کہ 26 مارچ کو خیبرپختونخوا کے علاقے شانگلہ میں بشام کے مقام پر گاڑی پر خودکش حملے کے نتیجے میں 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

17 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور معاشی اشتراک کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے، جبکہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی مہمانوں کی سیکیورٹی کے معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment