بلوچستان گذشتہ تین چار دنوں سے شدید بارش وسیلاب کی لپیٹ میں ہے ،آبادیاں ، ریل ٹریک و شاہراہیں زیر آب آگئی ہیں۔
بارش و سیلاب کی تباہ کاریاں اور آسمانی بجلی گرنے سے اب تک 9 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ ہرنائی میں ہرنائی ٹو سبی ریلوے ٹرین کی پٹڑی سیلاب میں بہہ گئی۔جس سے حکومت پاکستان اور محکمہ ریلوے کی جانب سے اس پٹڑی پر خرچ ہونے والے اربوں روپے سیلاب کی نذر ہوگئے۔
کہا جارہا ہے کہ محکمہ ریلوے نے ہرنائی ٹو سبی ریلوے ٹرین کی پٹڑی کو ندیوں کے کناروں پر تو بچھایا۔ لیکن اس پٹڑی کی حفاظت کے لئے ندیوں کے کناروں پر حفاظتی بندات نہیں بنائے۔ حالانکہ اس حوالے سے کئی مہینے پہلے ہرنائی کی میڈیا پر اس کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ لیکن پھر بھی اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دیا گیا۔ جس کی وجہ سے اس پٹڑی کا یہ ہوا حال ہوا ہے۔ اور ہرنائی ٹو سبی ریلوے ٹرین مسلسل ایک ہفتے سے بند ہے۔
علاوہ ازیں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی کارکردگی، عارضی طور پر بنایا جانے والا مستونگ روڈ بائی پاس آج بارش کے بعد پھر بہہ گیا، ٹریفک کی روانی معطل، تمام گاڑیاں براستہ سنگر جارہی ہیں۔
اسی طرح ضلع چاغی کے علاقے لشکرآب میں مسلسل کئی گھنٹے موسلادھار بارش کے بعد گھٹنوں تک پانی جمع ہوگیا۔ پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس دوران سیلابی ریلوں نے بھی گاؤں کا رخ کیا تو گاؤں کے سینکڑوں افراد بچوں اور خواتین کو لے کر قریبی پہاڑی ٹیلوں کی طرف دوڑے اور پوری رات کھلے آسمان تلے بارش اور سردی میں گزاری۔
اس سلسلے میں ضلع چاغی کے علاقے لشکرآب کے رہائشی گہرام خان کاشانی کا جن کے گاں کا حالیہ بارشوں اور اس کے بعد آنے والے ریلوں نے نقشہ ہی تبدیل کردیا ہے۔
حکام کے مطابق چاغی کے علاقے دالبندین اور تحصیل چاغی میں کم سے کم 300 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ سینکڑوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پرووِنشل ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بارشوں سے چاغی، کوئٹہ، گوادر، کیچ اور پشین سمیت بلوچستان کے سات اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔بارشوں کے دوران آسمانی بجلی گرنے اور مکانات منہدم ہونے سے 9 افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سیلابی ریلوں میں پھنسے ہوئے درجنوں افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، دالبندین، چاغی، تربت اور پسنی سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں رواں ماہ معمول سے کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں سیلابی صورت حال پیدا ہوئی۔
ضلع گوادر کے تحصیل پسنی میں بھی بارشوں کے بعد صورت حال خراب ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پسنی میں 14 اپریل کو 90 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
پسنی کے مقامی صحافی ساجد نور نے بتایا کہ مسلسل چار سے پانچ گھنٹے موسلادھار بارش کے بعد ہر طرف پانی ہی پانی جمع ہوگیا ہے۔شہر میں نکاسی آب کا نظام موجود نہیں جس کی وجہ سے دکانوں اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔بعض علاقوں میں گھٹنوں تک پانی موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وارڈ نمبر، چار، پانچ اور چھ میں آٹھ مکانات گرے ہیں۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول باغ بازار کی چار دیواری گر گئی۔ وارڈ نمبر پانچ کے ماہی گیر محلے میں مکان گرنے سے چار بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
کمشنر مکران ڈویژن سعید عمرانی نے تصدیق کی کہ پسنی میں صورت حال اچھی نہیں ہے، گھروں اور گلی محلوں سے پانی نکالنے کے لیے ڈی واٹرنگ پمپس کی مدد لی جا رہی ہے۔ پانی نکالنے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں ۔
پسنی کے رہائشی اللہ بخش نے بتایا کہ ڈی واٹرنگ پمپس زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو رہے کیونکہ پائپس چھوٹے پڑ رہے ہیں، گھروں سے پانی نکال کر گلی میں پھینکنا کوئی حل نہیں۔
چیئرمین میونسپل کمیٹی پسنی میر نور احمد کلمتی کے مطابق میونسپل کمیٹی کے پاس صرف پانچ واٹر پمپنگ جنریٹرز اور ایک واٹر بوزر ہے جو پہلے روز سے کام کر رہا ہے اور ہم نے ڈپٹی کمشنر گوادر سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں مزید مشینری فراہم کی جائے۔
گوادر سے متصل ضلع کیچ میں بھی بارشوں سے نقصانات ہوئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان نے میڈیا کو بتایا کہ بارشوں کے نتیجے میں بلیدہ، زامران، مند، بلنگور میں سرکاری عمارتوں، کچے مکانات اور چار دیواریوں کو نقصان پہنچا ہے۔نہینگ ندی میں پھنسے 10 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ بلیدہ، مند، تمپ اور دشت میں سینکڑوں سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے جبکہ گندم کی فصل بھی متاثر ہوئی ہے۔مستونگ میں بارش کے بعد سنگر بائی پاس روڈ سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔
لیویز کے مطابق ہرنائی کو کوئٹہ، پنجاب اور سنجاوی سے ملانے والی شاہراہ تین دنوں سے بند ہے۔ہرنائی کے علاقے سپین تنگی میں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہرنائی سبی ریلوے ٹرین سروس معطل کردی گئی ادھر کوئٹہ میں بھی موسلادھارش بارشوں کے بعد اربن فلڈنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ سڑکوں پر کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ سرکی روڈ، سریاب روڈ، گاہی خان چوک ہنہ اوڑک، چشمہ اچوزئی ،نواں کلی، خروٹ آباد اور مشرقی بائی پاس میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا۔
ہنہ اوڑک، نواں کلی اور چشمہ اچوزئی اگست 2022 کے سیلاب سے تباہ ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے ان علاقوں کا شہر سے رابطہ منقطع رہا۔
ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ کوئٹہ میں ضلعی انتظامیہ، میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور پی ڈی ایم اے نے مل کر پانی نکالنے کا کام کیا شہر میں اب صورت حال بہتر ہوگئی ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان میں بارشوں سے مجموعی طور پر سات اضلاع متاثر ہوئے ہیں جن میں کوئٹہ، پشین، گوادر اور کیچ شامل ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ 16 سے 19 اپریل کے دوران بلوچستان کے ضلع نوشکی، خاران، چاغی، مستونگ، قلات، خضدار، آواران، کیچ، گوادر، بارکھان، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، سبی، ہرنائی، جھل مگسی، نصیرآباد، قلعہ سیف اللہ، شیرانی، موسی خیل اور زیارت میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشیں متوقع ہیں جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز، سیلابی ریلوں اور آسمانی بجلی سے محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ ماہی گیری نے گوادر کے ماہی گیروں کو 17 اور 18 اپریل کو گہرے سمندر میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔