بلوچستان میں چیک پوسٹیں دوبارہ قائم کریں گے، سرفراز بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے نوشکی میں گذشتہ روزمسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک 9 پنجابیوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

نماز جنازہ میں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ،اراکین اسمبلی حاجی ولی محمد نورزئی ،ضیا لانگو، لیاقت لہڑی ،ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند، ایڈیشنل آئی جی پولیس جواد ڈوگر ،آئی جی ایف سی چوہدری امیر اجمل ودیگر نے شرکت کی۔

اس موقع پر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نوشکی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں کی قوم یاکوئی مذہب نہیں ہے،جوذمہ دارہوگااس کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی،اس حوالے سے جس کی بھی غفلت ہوئی اس کےخلاف کارروائی ہوگی،نوشکی واقعہ کے شہداکے خون کابدلہ لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست پوری طاقت کےساتھ عسکریت پسندوں پرحملہ آورہوگی،کسی بھی صورت ریاست کی رٹ برقراررکھی جائےگی ،معصوم لوگوں کوقتل کیاجارہاہوتومذاکرات تونہیں ہوسکتے،جس نے بھی سہولت کاری کی اس کے پیچھے جائیں گے، ہم اپنے سیکورٹی پلان پر نظرثانی کریں گے، اپنی شاہراہوں اور مسافروں کی حفاظت کریں گے۔ ایف سی، پولیس اور لیویز کی چیک پوسٹوں کو دوبارہ قائم کریں گے، جوائنٹ پٹرولنگ کا انعقاد کیا جائے گا۔

واضع رہے کہ بلوچستان پہلے سے مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں ہے اور کہیں جگہوں پر ہٹائی گئیں چیک پوسٹوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہاں فورسز کو مذہبی شدت پسند اور بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے شدید جان لیوا خطرات کے پیش نظر وہ چیک پوسٹیں ہٹائی گئی تھیں۔

Share This Article
Leave a Comment