بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں نوشکی میںپاکستانی خفیہ اداروں کے9 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) دستے نے گذشتہ روز نوشکی شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر آر سی ڈی شاہراہ پر واقع سلطان چڑھائی کے مقام پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کی۔ بلوچ سرمچاروں نے یہ ناکہ بندی بی ایل اے کی انٹیلی جنس ونگ کی معلومات پر کی۔ سرمچاروں کو اطلاع تھی کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکار عوامی بسوں میں سادہ لباس میں سفر کررہے تھے۔ اس دوران تین گھنٹوں تک مذکورہ شاہراہ کی مکمل ناکہ بندی کی گئی۔ ناکہ بندی کے دوران مختلف کوچوں کو روک کر تلاشی لی گئی۔ اس دوران سرمچاروں نے ایک کوچ سے 9 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ تفتیش اور تلاشی کے بعد ان مشتبہ افراد سے متعدد شناختی کارڈ اور بڑی تعداد میں سِم کارڈ برآمد ہوئے۔ جنہیں خفیہ اداروں کے اہلکار شناخت کرکے سرمچاروں نے موقع پر ہلاک کردیا۔
اسی دوران بی ایل اے کے سرمچاروں کے ایک اور دستے نے ریلوے ٹریک کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔
دریں اثناء نوشکی ہی میں خیصار نالے پر قائم قابض پاکستانی فوج کے کیمپ و اسلحہ ڈپو پر راکٹ و دیگر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ یہ حملہ بیس منٹ سے زائد جاری رہا، جس میں دشمن فوج کو بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
بلوچ لبریشن آرمی ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ بی ایل اے دشمن فوج کے باوردی اہلکار ہوں یا خفیہ اداروں کے سادہ لباس اہلکار، یا پھر مقامی سہولت کار، ان پر اس وقت تک حملے جاری رکھے گی، جب تک دشمن اپنی فوج بلوچ سرزمین سے نکالنے اور آزاد بلوچ وطن کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں ہوتی۔