بلوچستان میں طوفانی بارشیں شروع، آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد، 10 افراد پھنس گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ تربت میں بارشوں کے بعد سیلابی ریلے میں 10 افراد پھنس گئے۔

پشین میں ایک شخص آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوگیا، جبکہ ایک ہلاکت کا ایک واقعہ ڈیرہ بگٹی میں پیش آیا۔

ادھر ضلع کیچ کے علاقے نہنگ ندی میں میر آباد تمپ کے مقام پر10 افراد پانی کے اندر صبح 8 بجے سے پھنس گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اپنی مدد آپ کے تحت کافی کوشش کی گئی مگر پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے سبب پھنسے ہوئے لوگوں کو اب تک ریسکیو نہیں کیا جاسکا۔ مقامی لوگوں کے مطابق پانی میں پھنسے افراد میں چار خواتین، کچھ بچے اور مرد شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق پی ڈی ایم اے سے رابطہ کیا گیا مگرانہوںنے مدد سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس ریسکیو کے لیے جہاز کی سہولت نہیں ہے، انہیں کشتی سے نکالا نہیں جاسکتا اسی طرح ان کے مطابق کمشنر مکران ڈویژن سے بھی بات کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہاں سے بھی عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکا۔

ذرائع کے مطابق صبح 8 بجے سے پانی میں پھنسے ان افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں کیوں کہ ابھی بھی بادل چھائے ہوئے ہیں اور سیلاب کا خطرہ موجود ہے اگر ان دس افراد کو فوری ریسکیو نہیں کیا گیا تو بارش اور سیلاب کی صورت میں ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

اسی طرح ضلع پشین کے علاقے حمید آباد میں بھی ہنگامی صورتحال ہے اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ریسکیو کی 2 ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے 10 سے 15 کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں پشین، چمن، قلعہ عبدللہ، قلعہ سیف اللہ، آواران، کچ، چمن، لورالائی، دوکی، ہرنائی، مستونگ، خضدار، کوئٹہ اور دیگر قریبی علاقے شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے نے دعویٰ  کیا ہے کہ اس نے جان بچانے والی اشیا اور بھاری مشینری پشین کی جانب بھیج دی ہیں۔

اگلے 12 گھنٹوں کے لیے ژوب، شیرانی، برکان، موسیٰ خیل، کوہلو، سبی، جھل مگسی، لورالائی، زیارت، کوئٹہ، چمن، پشین، قلعہ عبدللہ، قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، لورالائی، قلات، خضدار، پنجگور، کچ، گوادر، نصیرآباد، کچی، جعفرآباد، سوراب، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، لسبیلہ، حب اور دیگر نزدیکی علاقوں میں گرج چمک اور آندھی کے ساتھ مسلسل بارش کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ شدید بارش اور ثالہ باری کے نتیجے میں نالوں میں اور آبی راستوں میں طغیانی کا اندیشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment