یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے جامع قوانین کی منظوری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یورپی پارلیمان نے ایسے قوانین کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت یورپی یونین میں پناہ کے حصول کے طریقہ کار اور سرحدی نگرانی کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ نئی پالیسی کیسے کام کرے گی۔

برسوں کے تنازعات کے بعد، ہجرت کے نئے معاہدے کا مقصد یورپی یونین کے سیاسی پناہ کے قانون میں اصلاحات اور ریاستوں پر بوجھ کو کم کرنا ہے۔

يورپی یونین کے 27 رکن ممالک گزشتہ آٹھ سالوں سے سیاسی پناہ کے قوانین کے بارے میں مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھے۔ آخر کار دس اپریل بروز بُدھ یورپی پارلیمان نے یورپی یونین میں سیاسی پناہ کے طریقہ کار میں بنیادی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ۔ ہجرت کا معاہدہ‘‘ کہلانے والا یہ مسودہ آٹھ قوانین پر مشتمل ہے۔

بنیادی طور پر یورپی یونین میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہونے والوں کی تعداد کو کم کرنا، سیاسی پناہ کے عمل کو تیز کرنا اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو بیرونی سرحدوں پر منتقل کرنا وغیرہ شامل ہے۔ یورپی یونین کے شماریات کے ادارے یوروسٹیٹ کے مطابق گزشتہ برس پناہ کی درخواستوں کی تعداد 1.14 ملین تھی۔ اس تعداد میں گزشتہ چار سالوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، 2022 ء سے یوکرین کے تقریباً چالیس لاکھ پناہ گزینوں کو یورپی یونین میں جگہ دی گئی ہے۔

اس تازہ قانون کے مطابق خشکی، سمندر یا ہوائی راستے سے یورپی یونین پہنچنے پر پناہ کے متلاشیوں اور پناہ گزینوں کو سات دن کے اندر واضح طور پر شناخت اور توسیع شدہ بائیو میٹرک یوروڈاک‘‘ فائل میں رجسٹر کیا جانا ہے۔

20 فیصد سے کم شناخت کی شرح والے ممالک کے تارکین وطن کو بارہ ہفتوں تک سرحد پر ان کیمپوں میں جو یونان، اٹلی، مالٹا، اسپین، کروشیا اور قبرص میں لگائے جانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے، میں رکھا جائے گا۔ اس دوران یہ طے کیا جائے گا کہ کس کس کو بغیر کسی جانچ کے اُس کے آبائی ملک واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ قانون کی اس شق سے یورپی یونین کی طرف آنے والے پناہ کے متلاشیوں کی ایک اقلیت متاثر ہوگی ۔ پورے یورپی یونین میں مذکورہ کیمپوں کی گنجائش 30,000 ہونی چاہیے۔

زیادہ شناخت کی شرح والے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن پر پناہ کے متلاشی افراد کے عام طریقہ کار کا اطلاق ہو گا۔ اس طرح سیاسی پناہ کی درخواستوں سے نمٹنے کے عمل میں جو اب تک برسوں لگ جاتے تھے، آئندہ کم وقت لگا کرے گا۔ علاوہ ازیں مسترد شدہ پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست بیرونی سرحدوں سے یورپ بدر کر دیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment