افغانستان پر قابض طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کا ایک تحریری بیان جاری ہوا ہے جس میں برسرِ اقتدار طالبان حکام سے کہا گیاہے کہ وہ باہمی اختلافات سے دور رہیں۔ کیونکہ سوویت یونین کی شکست کے بعد آپس کے اختلافات کی وجہ سے افغانستان میں شریعت نافذ نہیں ہو سکی تھی۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ہبت اللہ اخونزادہ کا یہ تحریری بیان رمضان کے اختتام پر عید الفطر سے قبل جاری کیا گیا ہے۔
اخونزادہ کا یہ بیان ازبک اور ترک سمیت سات زبانوں میں جاری کیا گیا ہے۔
ہیبت اللہ اور ان کے قریبی حلقے نے خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں عائد کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ردِ عمل سامنے آیا اور طالبان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں اخونزادہ کا کہنا تھا کہ طالبان حکام کو آپس میں برادرانہ تعلقات رکھیں جب کہ اختلافات اور خود غرضی سے بچنا چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت اور کمیونزم کے خلاف جہاد میں شکست کے بعد آپس میں اختلافات ہوئے تھے اور اس تقسیم کی وجہ سے افغانستان میں شریعت کا نفاذ نہیں ہو سکا تھا۔
ان کا بیان میں مزید کہنا تھا کہ امن و امان کا قیام لوگوں پر زیادہ سختیاں کر کے قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ان کے بقول سیکیورٹی شریعت اور انصاف کی فراہمی سے منسلک ہے۔