کراچی میں طیارہ حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد30 ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کی ترجمان میرن یوسف کا کہنا ہے کہ اب تک کراچی کے جناح ہسپتال میں 17 اور سول ہسپتال میں 13 ایسے افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں جو کراچی میں طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے اب تک صرف تین افراد کی ہی شناخت ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی قومی ائیرلائن کی پرواز ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی۔ طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے7 ارکان سوار تھے۔

ترجمان پی آئی اے نے بتایا ہے کہ قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ کے وقت حادثہ پیش آیا اور طیارہ 2 بجکر 37 منٹ پر تباہ ہوگیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے زیر استعمال یہ ائیربس اے 320 طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا اور اس کی عمر تقریباً 10 سے 11 سال تھی اور طیارہ مکمل مینٹین تھا لہٰذا تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ سول ایوی ایشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل ائیرٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

جہاز کے پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں طیارے کے پائلٹ نے ایک انجن فیل ہونےکی اطلاع دی اور مے ڈے مے ڈے کی کال دی تھی جس پر پائلٹ کو بتایا گیا کہ طیارے کی لینڈنگ کے لیے دو رن وے دستیاب ہیں جس کے بعد طیارے کا رابطہ منقطع ہوگیا۔

ذرائع سول ایوی ایشن کا کہنا ہےکہ طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی اور لینڈنگ سے پہلے اس کے پہیے نہیں کھل رہے تھے جس پر پرواز کو راو¿نڈ اپ کا کہا گیا لیکن اس دوران جہاز آبادی پر گر گیا۔

پی آئی اے نے حادثے کا شکار طیارے کے مسافروں کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق مسافروں میں 51 مرد ،31 خواتین اور 9 بچے شامل ہیں۔

طیارے میں سینئر صحافی اور چینل 24 کے پروگرامنگ ڈائریکٹر انصار نقوی بھی سوار تھے جب کہ بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعودکا نام بھی طیارے کے مسافروں کی فہرست میں شامل ہے۔

بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود حادثے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

ذرائع نے بتایا کہ طیارے کے کپتان کا نام سجاد گل ہے جب کہ عملے میں عثمان اعظم ، فرید احمد، عبدالقیوم اشرف ، ملک عرفان رفیق، عاصمہ اور مدیحہ ارم شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق طیارہ ماڈل کالونی اور ملیر کینٹ کے قریب جناح گارڈن کے پاس آبادی پر گرا اور اس میں گرتے ہی ہولناک آگ لگ گئی، طیارہ گرنے سے علاقے میں کے الیکٹرک کی تاریں اور ٹیلی فون کی تاریں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ طیارہ گرنے سے قبل قریب موجود رہائشی عمارتوں کی چھتوں سے ٹکرایا جس سے کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور گھروں کی چھتوں پر بھی آگ لگ گئی جب کہ طیارہ گرنے کے بعد علاقے میں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔

اطلاعات کے مطابق طیارہ گرنے سے پہلے بائیں جانب جھکا، پہلے طیارے کی د±م زمین سے ٹکرائی جس سے طیارےکا زور ٹوٹ گیا، اگلے حصے کی نشستوں کو دھچکا کم لگا اور کئی مسافر محفوظ رہے۔

طیارہ رہائشی مکانات پر گرا جس کی وجہ سے گھروں اور گلی میں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پائلٹ نے آبادی کو بچانے کی کوشش کی لیکن طیارے میں آگ بھڑکنے کے بعد وہ آبادی پر جاگرا۔

حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری جائے حادثہ پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کا عملہ بھی پہنچ چکا ہے اور شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے۔

جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے اور جہاز کے ملبے سے ایک 5 سالہ بچے اور ایک شخص کی لاش نکال لی گئی ہے جب کہ رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے طیارہ حادثے کے بعد کراچی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی اور ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی تاخیرنہ کی جائے۔

Share This Article
Leave a Comment