غزہ کے لیےجانے والا امداد رفح کراسنگ پرروک دیا گیاہے ۔
اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امداد روکنا ایک اخلاقی ظلم ہے۔ انہوں نے انسانی بنیادوں پر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے ہفتے کے دن مصر کی سرحد کے ساتھ واقع غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح کا دورہ کیا۔ ہفتے کو کراسنگ کے دورے میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ غزہ کے لیے امداد روکنا ایک اخلاقی ظلم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رفح کراسنگ کی ساری صورتِ حال دل توڑ دینے والی اور بے رحمانہ ہے۔
گوتریس نے جب رفح کراسنگ کا دورہ کیا تو ان کے ایک جانب ان ٹرکوں کی لمبی قطار تھی جن پر امدادی سامان لدا ہوا تھا۔ ان ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا۔
غزہ میں امدادی سامان کے ٹرکوں کو اس وقت داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے جب اس جنگ زدہ علاقے کی 23 لاکھ آبادی میں بیشتر کو فاقہ کشی کا سامنا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ یہ انتہائی المناک اور اخلاقی ظلم ہے۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ پورے غزہ میں انسانی ضروریات کے سامان کی بلا کسی رکاوٹ کے رسائی کی اجازت دے۔
سیکریٹری جنرل کا رفح کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل وہاں ایک بھر پور فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے۔
جبکہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتین یاہو اور ان کی جنگی کابینہ سے ملاقات کی ہے تاکہ انہیں رفح پر حملے سے باز رکھا جا سکے۔
خیال رہے کہ اس وقت رفح میں ان لوگوں کی اکثریت پناہ لیے ہوئے ہے جو غزہ میں بے گھر ہوئے ہیں۔