پاکستانی فورسز نے بلوچستان سے 7 بلوچ و پشتون نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔
لاپتہ کئے گئے پشتون نوجوانوں کا تعلق پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم)سے بتایا جارہا ہے ۔
پی ٹی ایم ذرائع کے مطابق پشتون تحفظ موومنٹ کے کوئٹہ اور لورالائی کے سینئر رہنما نقیب پشتون اور عصمت کامریڈ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے بابا جان ہوٹل پرنس روڈ کوئٹہ سے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
دوسری جانب ضلع آواران کے علاقے جھائو سے فوج نے 2 افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے جس کے ردعمل پر لواحقین نے جھائو لسبیلہ روڈ پر دھرنا دے کر روڈ کو آمد رفت کے لیے مکمل بند کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والوں کی شناخت ڈاکٹر طاہر اور ظفر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
لواحقین کے مطابق ان میں سے ڈاکٹر طاہر کو فورسز نے کیمپ میں بلا کر حراست میں لیا ہے جس کے بعد سے لاپتہ ہیں۔
لواحقین کے مطابق دونوں کو بلاوجہ فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔
لواحقین کا کہنا ہے جبکہ دونوں بازیاب نہیں ہونگے احتجاج جاری رہے گا۔
اسی طرح ضلع خضدار کے تحصیل زہری سے فورسز نے 2 افراد کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جن کی شناخت میر خان ولد سید خان اور حسین خان ولد سید خان کے ناموں سے ہوئی ہے اور دونوں آپس میں سگے بھائی بتائے جارہے ہیں ۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو زہری بازار سے فورسز و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اس وقت جبری لاپتہ کردیا جب وہ اپنے ایک مریض کو علاج کی غرض سے ہسپتال لے جارہے تھے ۔
ذرائع کے مطابق دونوں زمینداری سے منسلک تھیں اور ایک مریض کے سلسلے میں زہری بازار آئے ہوئے تھے ۔
دریں اثنا مستونگ سے فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت امیر حمزہ کے نام سے ہوئی ہے۔
امیر حمزہ کی اہلیہ کے مطابق فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر گھر میں موجود لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے توڑ پھوڑ کے بعد امیر حمزہ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فورسز نے گھر میں موجود موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔