جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی 55ویں اجلاس کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے زیر اہتمام چوتھی بین الاقوامی بلوچستان کانفرنس بعنوان ’’بلوچوں کے ساتھ ناانصافی: عالمی تناظر اور عالمی ذمہ داریوں کے پس منظر میں بلوچستان کی سیاسی و انسانی حقوق کی جدوجہد‘‘11 مارچ 2024 کو جنیوا پریس کلب میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے شرکت کی ،اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا اور بلوچ قومی تحریک سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔
کانفرنس نو حصوں پر مشتمل تھاجس میں Rt Hon John McDonnell (johnmcdonnellMP)، ہیز اور ہارلنگٹن کے لیبر ایم پی اورواحد بین الاقوامی صحافی karloszurutuzaجنہوں نے بلوچستان کے تینوں حصوں (افغانستان، ایران اور پاکستان) سے رپورٹنگ کی،سمیت PeterTatchell،1967 سے انسانی حقوق، جمہوریت، LGBT+ آزادی، اور عالمی انصاف کے وکیل جوایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بلوچ آزادی کے مقصد کی بھرپور حمایت کر رہا نے شرکت کی ۔
کانفرنس میں بلوچستان پر دستاویزی فلم پیش کی گئی ۔
کانفرنس میں انسانی حقوق کے کارکن اور محقق نور مریم کنور نے پاکستان میں نسلی اور مذہبی برادریوں پر توجہ مرکوز کی ۔
انسانی حقوق و سیاسی کارکن، بلوچ نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کے رکن حاتم بلوچ ،سندھو دیش کی آزادی کی وکالت کرنے والی اور ورلڈ سندھی کانگریس کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر لکھو لوہانہ ،ایرانی زبانوں کی ایک ممتاز ماہر لسانیات و محقق اورسویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں پروفیسر کرینہ جہانی ،لندن میں مقیم جنوبی وسطی ایشیائی امور میں مہارت رکھنے والے مصنف ڈاکٹر نصیر دشتی ، پاکستانی دفاعی تجزیہ نگار و مصنف ڈاکٹر عائشہ صدیقہ،ڈاکٹر نسیم بلوچ اور BNM کے فارن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر نیاززہری نے بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جارحیت و بربریت ، جبری گمشدگیاں ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ،سمیت معاشی و بنیادی حقوق سے محروم افراد کی صورتحال پر گفتگو کی اور قرارداد پیش کی گئی۔