اسرائیل میں نیتن یاہوکیخلاف احتجا ج ،استعفیٰ و انتخابات کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہوکیخلاف عوامی احتجا ج میں ان سے استعفیٰ اورنئے انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین نے حماس کے ہاتھوں یرغمال افراد کی فوری بازیابی، وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے مستعفی ہونے اور ملک میں فوری نئے انتخابات کے مطالبات کے ساتھ احتجاج کیا ہے۔

مظاہرے کے شرکا نے ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے اور ایسی ٹی شرٹس پہنی ہوئی تھیں جن پر یرغمال افراد کے نام تحریر تھے اور تصویریں بنی ہوئی تھیں۔

حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر غیر متوقع حملے میں 240 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سے سو سے زائد یرغمالوں کو نومبر میں عارضی جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا ۔ البتہ اب بھی لگ بھگ 100 افراد حماس کی تحویل میں ہیں۔

تل ابیب میں ہفتے کو ہونے والے احتجاج میں شریک مظاہرین باقی یرغمالوں کو بازیاب کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اسرائیل کی حکومت کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 100 یرغمال افراد غزہ میں موجود ہیں ہیں جب کہ 31 یرغمالوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں جب کہ مظاہرین کی مایوسی کا بنیادی سبب یرغمالوں کی ہلاکتیں ہیں۔

کچھ مظاہرین نے فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔ لیکن نیتن یاہو کی حکومت یہ کہتے ہوئے جنگ بندی کے مطالبات کو اب تک مسترد کرتی رہی ہے کہ یہ اقدام حماس کی فتح کے مترادف ہو گا۔

تل ابیب میں ہونے والے مظاہرے میں 50 سالہ پائلٹ شائی گل نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت کو جنگ سے قبل بھی بڑے پیمانے پر احتجاج اور مظاہروں کی ایک لہر کا سامنا تھا جب کہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد اب وہ اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا اور اب اسرائیل میں انتخابات کرانے ہوں گے۔

بعد ازاں پولیس حکام نے بتایا کہ پولس نے 16 مظاہرین کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران ایک ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کی اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔

Share This Article
Leave a Comment