بلوچستان کے علاقے دکی کے مقامی کوئلہ کان میں حادثے سے انجن ڈرائیور انجن کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مقامی کوئلہ کان پر موجود انجن ڈرائیور کی چادر اچانک انجن میں پھنسنے کی وجہ سے گلے میں پھندا لگ جانے اور انجن کی زد میں آنے سے انجن ڈرائیورہلاک ہوگیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک انجن ڈرائیور کی شناخت محمد رفیق ولد سردار خان ہوشخیل ناصر سکنہ دکی کے نام سے ہوگئی ہے۔
ہلاک کانکن کی لاش کو سول ہسپتال دکی میں ضروری کاروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا۔
دوسری جانب حب کے علاقے ساکران سے ایک شخص کی لاش برآمدہوئی ہے۔
پولیس نے لاش کوتحویل میں لیکر اسپتال منتقل کردیا۔
لاش کی شناخت صابر ولد غلام محمد کھوسہ ساکن دھمبورہ بھٹ ساکران کے نام سے ہوگئی ہے۔
پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کو چھریوں سے وار کر کے قتل کرنے کے بعد لاش کو ویرانے میں پھینک دیا گیا۔
قتل کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہ آسکیں نہ ہی ملزمان کا کوئی سراغ لگایا جاسکا ہے۔
ساکران میں قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا، علاقہ مکین غیر محفوظ چور ڈاکو قاتل دندناتے پھرنے لگے۔
پولیس علاقہ مکینوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی۔