غزہ : جنگ بندی نہ ہوسکی ،رمضان میں رفح پر آپریشن کا امکان

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read
فوٹو: روئٹرز

غزہ میں اسرائیل و حماس مابین جنگ بندی کے حوالے سے جاری مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو نے پر ماہ ِ رمضان میں رفح پر آپریشن کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

مصری حکام نے بتایا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی پر حماس کے ساتھ تین روزہ مذاکرات رمضان کے مہینے کے شروع ہونے سے ایک ہفتے سے بھی قبل منگل کو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔

امریکہ، قطر اور مصر نے ایک ایسے معاہدے کی ثالثی کی کوشش میں ہفتوں صرف کیے ہیں، جس کے تحت حماس چھ ہفتے کی جنگ بندی، کچھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اس محصور علاقے میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امداد کی ترسیل کے بدلے 40 یرغمالوں کو رہا کرے گا۔

دو مصری حکام نے کہا کہ بات چیت کا تازہ دور ختم ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس نے ایک تجویز پیش کی جس پر ثالث آنے والے دنوں میں اسرائیل کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کے رکن اور ان کے اہم سیاسی حریف بینی گینٹز نے واشنگٹن میں سینئر امریکی حکام سے ملاقات کی جس کی نیتن یاہو نے مخالفت کی، جو اسرائیلی قیادت میں بڑھتی ہوئی خلیج کی تازہ ترین علامت ہے۔

اسرائیل اب بھی غزہ کے تمام حصوں پر حملے کر رہا ہے اور اس نے اپنے زمینی حملے کو جنوبی شہر رفح تک پھیلانے کی دھمکی دی ہے جہاں غزہ کی نصف آبادی نے پناہ حاصل کی ہے۔ گینٹز نے کہا ہے کہ اگر یرغمالوں کے بارے میں کوئی ڈیل نہ ہوئی تو رفح آپریشن رمضان کے ساتھ ہی شروع ہو سکتا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 97 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 30,631 ہو گئی ہے۔ وزارت اپنے اعداد و شمار میں عام شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق نہیں کرتی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ اپنے پاس قید لگ بھگ 100 یرغمالوں اور 30 مزید کی باقیات کو اس وقت تک واپس نہیں کرے گا جب تک اسرائیل اپنی کارروائیاں ختم نہیں کرتا، غزہ سے انخلا نہیں کرتا اور عمر قید کی سزا کاٹ نے والے سینئر عسکریت پسندوں سمیت فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو رہا نہیں کرتا ۔

رپورٹس کے مطابق حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 90 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں شبہ ہے کہ حماس واقعی کوئی معاہدہ چاہتا ہے کیونکہ اس گروپ نے کئی ایسی درخواستو ں کو مسترد کیا ہے جو امریکہ اور دوسروں کے خیال میں جائز درخواستیں ہیں جن میں رہا کیے جانے والے یرغمالوں کے نام فراہم کرنے کی درخواست شامل ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے منگل کو کہا کہ "یہ حماس پر منحصر ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کرے کہ آیا وہ پیش رفت کے لیے تیار ہے۔”

بلنکن نے کہا، "ہمارے پاس فوری جنگ بندی کا ایک موقع ہےجو یرغمالوں کو گھر واپس لا سکتا ہے، فلسطینیوں تک پہنچنے والی انسانی امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے جنہیں اس کی اشد ضرورت ہے، اور جو کسی پائیدار حل کے لیے حالات تشکیل دے سکتا ہے۔”

حماس کے ترجمان جہاد طحہ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اب تک شمالی غزہ سے انخلا کرنے والے حماس کے لوگوں کو واپس جانے کی اجازت دینے، طویل مدتی جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کی ضمانتیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔

طحہ نے کہا، "حماس ان تجاویز اور اقدامات کے لیے تیار ہے جو اس کے موقف سے مطابقت رکھتے ہیں جن میں جنگ بندی، انخلاء، بے گھر افراد کی واپسی، امدادی قافلوں کے داخلے اور تعمیر نو کا مطالبہ کیا گیا ہے۔”

اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کے مطالبات کو برملا مسترد کر دیا ہے اور بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک حماس کو ختم نہیں کیا جاتا اور تمام یرغمال واپس نہیں آجاتے ،اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔

Share This Article
Leave a Comment