گذشتہ روزکراچی پریس کلب میں محنت کش عورت ریلی کے آرگنائیزز کے 8 مارچ کے ریلی کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کا جس میں سمّی دین،زھرہ، اسد بٹ سمیت آمنہ بلوچ اور دیگر ایکٹوسٹس نے شرکت کی اور 8 مارچ کے ریلی کی حمایت کی۔
آمنہ بلوچ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ریاست نے ہمارا بنیادی حق چھینا ہے جو زندہ رہنے کا ہے۔
جبکہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا کہ محنت کش عورت ریلی کے آرگنائزر کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ہمیں 8 مارچ کے حوالے سے دعوت دی ہے اور بلوچ خواتین کی سیاسی مزاحمت کو سراہا، بلوچ خواتین محنت کش عورت ریلی کی بھر پور حمایت کرتی ہیں اور ان باہمت خواتین کی جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہیں جو اپنے لیے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔
سمی دین کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کی برابری اپنی جگہ بلوچ خواتین کو سانس لینے کی بھی اجازت تک نہیں ہے ۔بلوچ خواتین آج سڑکوں پر سالوں سے لاپتہ اپنے پیاروں کی بازیابی کی جدوجہد کررہی ہیں۔ اسلام آباد اور کراچی کوئٹہ میں ریاستی تشدد کا سامنا کیا ہے، پیاروں کی بازیابی کے لیے جیلوں تک گئی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ مشکل ترین حالات میں ریاستی تشدد کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں ۔