جلاوطن بلوچ سیاسی جہد کار خاتون کوسویڈن سے ایران ڈی پورٹ کرنیکا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جلاوطن بلوچ سیاسی جہد کار خاتون اسما بنت امان اللہ جو کہ سویڈ ن میں مقیم ہیں کو سویڈن حکومت کی جانب نے سیاسی پناہ کی درخواست ختم کرنے اور اسے ایران بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں بلوچ عالم دین مولوی عبدالغفار نقشبندی نے سوشل میڈیا (ایکس) کے توسط سے خبر دی ہے کہ اسما میربلوچ زاہی زیروکان کو سویڈن سے ایران ڈی پورٹ کرنے کا خطرہ باعث تشویش ہے۔

انہوں نے لکھا کہ سیاسی اور انسانی حقوق کے میدان میں اس بلوچ خاتون کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے ایران میں اسے ممکنہ طور پر ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی اذیتیں دیکر اسکی زندگی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

اسماء میربلوچ آئی جو کہ سویڈن میں مقیم سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں، کو ایران ڈیپورٹ ہونے کا خطرہ ہے، جہاں انہیں ایرانی حکام کی جانب سے سزا کا سامنا ہے۔ “عاصمہ بلوچ” کے نام سے جانی جانے والی 34 سالہ کارکن کا تعلق ایران کے زیر انتظام مغربی بلوچستان کے علاقے خاش سے ہے، وہ صوبہ کرمان کے شہر بام میں پلی بڑھی اور فی الحال سویڈن میں مقیم ہے۔

ایک ویڈیو بیان کے ذریعے سویڈن بدری کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے بلوچ خاتون کارکن عاصمہ بلوچ نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے کو سویڈن کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے انھیں ایک کال موصول ہوئی جس میں انہیں واپس ایران منتقلی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔

بلوچ خاتون کا کہنا تھا انکی ایران حوالگی کی خدشات بڑھتے جا رہے ہیں انہوں نے دیگر یورپی ممالک اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سویڈن حکام پر زور دے کہ انھیں ایران کے حوالے نہیں کیا جائے جہاں انھیں انکی حکومت مخالف سرگرمیوں کے باعث سنگین نتائج کا خطرہ درپیش ہے۔

عاصمہ بلوچ کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا سویڈن میں اپنے قیام کے دوران عاصمہ انھیں ایرانی حکومت کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں اور آئی ایس آئی ایس کے ساتھ وابستگی کے جھوٹے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔مغربی بلوچستان میں اس کے خاندان کو بھی انکی سیاسی اور سول سرگرمیوں کی وجہ سے دباؤ اور قتل کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

حقوق نسواں کی اس کارکن نے انسانی حقوق کے کیسز جیسے کہ فیول ٹینکرز کے قتل، بلوچ شہریوں کو پھانسی دینے اور اسلامی جمہوریہ کی طرف سے بلوچ شہریوں کو اندھا دھند گولی مارنے جیسے واقعات کو دستاویزی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ محترمہ اسما بلوچ کو "فریڈم لائف وومن” انقلاب کے دوران سویڈن میں قیام کے دوران قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment