بلوچ کلچرڈے : بی وائی سی کا کراچی میں ریلی ،بلوچ لاپتہ لواحقین و شہداء کو خراج عقیدت پیش

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) نے ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچ کلچر ڈے کے دن کو لاپتہ بلوچوں کے لواحقین اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور مزاحمت کو بلوچ کلچر کا ایک اہم جُز قرار دیا۔

بی وائی سی کی جانب سے آرٹس کونسل تا کراچی پریس کلب ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور کراچی میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی جانب کاروان میں ایک قدم اور بڑھایا۔

بی وائی سی (کراچی) کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ بلوچ مزاحمت کی تاریخ ہمیشہ سرخ الفاظوں میں لکھی جائے گی لیکن ایک دہائی سے جو بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین ہیں جنہوں نے اسٹیٹ وِد اِن اسٹیٹ کے اندر جو ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل داد ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ جس قدر گمبھیر ہے اتنا ہی گمبھیر اُس کے لئے آواز اٹھانا ہے کیوں کہ جب آپ آواز اٹھاتے ہو تو ریاستی کچھ ادارے تو آپ کے راستے کی رکاوٹ تو بنتے ہیں ہی بلکہ آپ کا خاندان اور معاشرہ بھی آپ کو روکتا ہے، کبھی ڈر کی وجہ سے یا پھر کبھی دیگر بنیادوں پر لیکن اگر ان لاپتہ افراد کے خاندانوں نے ہر قسم کی دھمکیوں اور ڈر کا سامنا کر کے یہاں تک پہنچے ہیں جہاں اسلام آباد جیسے شہر میں بھی آواز دبانے کی خاطر لاؤڈ اسپیکر تو چُرا لیتے ہیں لیکن شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ آوازیں لاؤڈ اسپیکر سے پرے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ کلچر میں مزاحمت ہے تبھی لیاری گینگ وار کو ہماری رگوں میں گھولنے کے بہت کوشش کی لیکن عوامی ہمت نے گینگ وار کو روکا ہے اور آئیندہ بھی اپنی وس میں جتنا ہوسکے اتنا روکے گی۔ ملیر گرین بیلٹ کو ریاست نے اپنی چالاکیوں سے تباہ تو کردیا لیکن عوامی مزاحمت ہی تھی جس نے لوگوں تک یہ شعور پہنچایا کہ ریاست کیا کررہی ہے اور کیا کرنا چاہ رہی ہے۔ آج بھی گولیمار، جہانگیر روڈ، ماڑی پور اور لیاری بلوچ آبادی جیسے علاقوں میں نشہ گھول گھول کر کروایا جا رہا ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے زہنوں کو ماعوف نہ کیا تو یہ بربادی کی راہ میں ہمارے لئے رکاوٹ بنیں گے۔

بلوچ کلچر ڈے کے موقعے پر بی وائی سی (کراچی) کی آرگنائزر آمنہ نے بلوچ شہداء کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید ملک ناز کی مزاحمت کو سراہا اور بتایا کہ اگر ملک ناز ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو اُس دن نہ روکتی تو شاید آج یہ ڈیتھ اسکواڈ گھر گھر ڈاکا مار رہے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک ناز کی مزاحمت تھی اسی لئے بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کا وجود ہے۔ شہید حیات کے واقعے کا غصہ اب تک ہمارے وجود میں موجود ہے، ہمیں وہ آٹھ گولیاں نہیں بھولیں اور نہ ہی ہم بھولیں گے۔ شہید کلثوم کا واقعہ بھی ابھی ہرا ہے۔ لیاری میں ہمارے ہر ایک نوجوان جو جھوٹے گینگ وار کیس میں مارا جانا یا چاہے بکتر بند گاڑیوں کے نیچے ہمارے بچوں کا کچل جانا، ہم کچھ نہیں بھولے۔ سی ٹی ڈی بلوچ لاپتہ افراد کو دہشتگرد بتا کر جو قتل کرتی ہے کیا اُس قتل کو ثابت کرسکتی ہے؟ کیا یہ ثابت کرسکتی ہے کہ شہید بالاچ مسلح تھا؟ گولیاں مارنا آپ کی فطرت میں ہوگا لیکن ان گولیوں کا حساب لینا ہماری ثقافت میں ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کی اس ریلی میں لاپتہ شبیر کی بہن سیما، لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمّی، کراچی میں موجود ہمارے سیاسی اور سماجی کارکنان سمیت کراچی کی عوام نے بھر پور شرکت کی اور اس ریلی کو کامیاب بنایا۔ بی وائی سی (کراچی) کے اختتام میں کہا کہ گوادر اور گرد نواح میں باقاعدہ فلڈ رلیف کا کام اسی ہفتے شروع کیا جائے گا ہم انسان دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں گوادر، جیونی اور گردونواح کے علاقوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس وقت انہیں راشن، کمبل اور پردے کے لئے پلاسٹک شیٹس اور میڈیسن کی ضرورت ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) نے ہر سال کی طرح اس سال بھی بلوچ کلچر ڈے کے دن کو لاپتہ بلوچوں کے لواحقین اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور مزاحمت کو بلوچ کلچر کا ایک اہم جُز قرار دیا۔ آرٹس کونسل تا کراچی پریس کلب ایک شاندار ریلی کا انعقاد کیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور کراچی میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی جانب کاروان میں ایک قدم اور بڑھایا۔

بی وائی سی (کراچی) کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ بلوچ مزاحمت کی تاریخ ہمیشہ سرخ الفاظوں میں لکھی جائے گی لیکن ایک دہائی سے جو بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین ہیں جنہوں نے اسٹیٹ وِد اِن اسٹیٹ کے اندر جو ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل داد ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ جس قدر گمبھیر ہے اتنا ہی گمبھیر اُس کے لئے آواز اٹھانا ہے کیوں کہ جب آپ آواز اٹھاتے ہو تو ریاستی کچھ ادارے تو آپ کے راستے کی رکاوٹ تو بنتے ہیں ہی بلکہ آپ کا خاندان اور معاشرہ بھی آپ کو روکتا ہے، کبھی ڈر کی وجہ سے یا پھر کبھی دیگر بنیادوں پر لیکن اگر ان لاپتہ افراد کے خاندانوں نے ہر قسم کی دھمکیوں اور ڈر کا سامنا کر کے یہاں تک پہنچے ہیں جہاں اسلام آباد جیسے شہر میں بھی آواز دبانے کی خاطر لاؤڈ اسپیکر تو چُرا لیتے ہیں لیکن شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ آوازیں لاؤڈ اسپیکر سے پرے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ کلچر میں مزاحمت ہے تبھی لیاری گینگ وار کو ہماری رگوں میں گھولنے کے بہت کوشش کی لیکن عوامی ہمت نے گینگ وار کو روکا ہے اور آئیندہ بھی اپنی وس میں جتنا ہوسکے اتنا روکے گی۔ ملیر گرین بیلٹ کو ریاست نے اپنی چالاکیوں سے تباہ تو کردیا لیکن عوامی مزاحمت ہی تھی جس نے لوگوں تک یہ شعور پہنچایا کہ ریاست کیا کررہی ہے اور کیا کرنا چاہ رہی ہے۔ آج بھی گولیمار، جہانگیر روڈ، ماڑی پور اور لیاری بلوچ آبادی جیسے علاقوں میں نشہ گھول گھول کر کروایا جا رہا ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے زہنوں کو ماعوف نہ کیا تو یہ بربادی کی راہ میں ہمارے لئے رکاوٹ بنیں گے۔

بلوچ کلچر ڈے کے موقعے پر بی وائی سی (کراچی) کی آرگنائزر آمنہ نے بلوچ شہداء کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید ملک ناز کی مزاحمت کو سراہا اور بتایا کہ اگر ملک ناز ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو اُس دن نہ روکتی تو شاید آج یہ ڈیتھ اسکواڈ گھر گھر ڈاکا مار رہے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک ناز کی مزاحمت تھی اسی لئے بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کا وجود ہے۔ شہید حیات کے واقعے کا غصہ اب تک ہمارے وجود میں موجود ہے، ہمیں وہ آٹھ گولیاں نہیں بھولیں اور نہ ہی ہم بھولیں گے۔ شہید کلثوم کا واقعہ بھی ابھی ہرا ہے۔ لیاری میں ہمارے ہر ایک نوجوان جو جھوٹے گینگ وار کیس میں مارا جانا یا چاہے بکتر بند گاڑیوں کے نیچے ہمارے بچوں کا کچل جانا، ہم کچھ نہیں بھولے۔ سی ٹی ڈی بلوچ لاپتہ افراد کو دہشتگرد بتا کر جو قتل کرتی ہے کیا اُس قتل کو ثابت کرسکتی ہے؟ کیا یہ ثابت کرسکتی ہے کہ شہید بالاچ مسلح تھا؟ گولیاں مارنا آپ کی فطرت میں ہوگا لیکن ان گولیوں کا حساب لینا ہماری ثقافت میں ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) کی اس ریلی میں لاپتہ شبیر کی بہن سیما، لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمّی، کراچی میں موجود ہمارے سیاسی اور سماجی کارکنان سمیت کراچی کی عوام نے بھر پور شرکت کی اور اس ریلی کو کامیاب بنایا۔ بی وائی سی (کراچی) کے اختتام میں کہا کہ گوادر اور گرد نواح میں باقاعدہ فلڈ رلیف کا کام اسی ہفتے شروع کیا جائے گا ہم انسان دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں گوادر، جیونی اور گردونواح کے علاقوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس وقت انہیں راشن، کمبل اور پردے کے لئے پلاسٹک شیٹس اور میڈیسن کی ضرورت ہے۔

Share This Article
Leave a Comment